LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے: سلمان اکرم راجہ ہمارے کارکن پرامن ہیں، گولی نہیں چلنی چاہیے: بیرسٹر گوہر اسلام آباد ناکام ہو چکا تو تھر والوں کو موقع دیں، مزید صوبے حل نہیں: بلاول بھٹو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدالت کا بانی پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم، فرخ حبیب و دیگر اشتہاری قرار گورنر راج اچھا فیصلہ نہیں، آخری حد پر نہیں جانا چاہتے: امیر مقام ریاست مخالف پروپیگنڈے کے خلاف این سی سی آئی اے کے خصوصی یونٹس قائم پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز صدر اور وزیراعظم کا قوم کی تعمیر میں اساتذہ کے کردار کو خراج تحسین سری لنکن کرکٹ ٹیم کی پاکستان کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے پاکستان آمد اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھ سکتا ہے: مریم نواز یمنی وزیر خارجہ کی حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے عالمی حمایت کی اپیل ماہ ستمبر میں جنوبی بلوچستان سے 435 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورۂ پاکستان، صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سے ملاقاتیں متوقع مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج، علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا امریکا نے برطانوی فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے

مقبوضہ مغربی کنارے کا پورا علاقہ اسرائیل کا ہے، اتمار بن گویر

Web Desk

4 October 2026

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کا پورا علاقہ اسرائیل کی ملکیت ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بن گویر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر وہ مستقبل میں وزیر دفاع کے عہدے پر فائز ہوتے ہیں تو وہ فلسطینی اتھارٹی کا مکمل خاتمہ کرنے اور وہاں مقیم فلسطینیوں کو جبراً دیگر علاقوں میں منتقل (ڈس پلیس) کرنے کے لیے تمام تر اقدامات کریں گے۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام زمین مکمل طور پر اسرائیل کی ہے اور اگر انہیں وزارتِ دفاع کا قلمدان ملتا ہے تو وہ اس خطے پر کامل اسرائیلی تسلط قائم کرنے اور فلسطینیوں کے اخراج کے ایجنڈے پر پوری توجہ مرکوز کریں گے۔ ان کے اس بیان نے مقبوضہ عرب علاقوں میں تشویش اور عالمی برادری کی جانب سے شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔