LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ترقی کے نئے دور میں داخل، 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف کل جماعتی حریت کانفرنس کا 13 جولائی یومِ شہدائے کشمیر منانے کا اعلان امریکی یہودیوں میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی مقبولیت مٹی میں مل گئی اسحاق ڈار کا مالدیپ کی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، 61ویں یومِ آزادی پر مبارکباد دی اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ وار شدید مندی؛ سرمایہ کاروں کے 259 ارب روپے ڈوب گئے، امریکا اور اسرائیل کو جنگی جرائم کی سزا اور ہرجانہ ادا کرنا ہوگا: سربراہ ایرانی عدلیہ بنوں: پولیس نے 40 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست جاری کر دی، سروں کی قیمت مقرر پاکستان ہاکی کی بہتری کیلیے غیر ملکی کوچز نے کام شروع کر دیا غیر ملکی خواتین سے جنسی زیادتی اور اغوا کا کیس: ملزمان کا مزید 5 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور بہامس میں طیارہ گر کر تباہ، 10 افراد ہلاک یوکرین کا 28 روسی سمندری جہازوں پر حملہ، ماسکو نے سمندری راستہ بند کردیا سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج پھر قیمت بڑھ گئی سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے اہم فیصلہ جاری ایس ای سی پی کا انقلابی قدم؛ اب IBAN کے ذریعے ڈیجیٹل ’کے وائی سی‘ ہوگی، نادرا کے بلاک شناختی کارڈز پر انویسٹمنٹ اکاؤنٹس بھی فوری بلاک کرنے کا فیصلہ پاک امریکہ تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم پیش رفت؛ مذاکرات مثبت رہے، اختلافات کم کرنے پر اتفاق

جرمنی کیلئے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ

Web Desk

29 January 2026

جرمنی کے لیے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گرین پاکستان پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 15 ٹاول ایکسپورٹرز نے جرمن ڈیو ڈیلیجینس لاء کے مطابق اپنی سسٹین ایبلٹی رپورٹس مکمل کر کے 300 جرمن درآمد کنندگان تک براہِ راست رسائی حاصل کرلی ہے۔

ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن میں ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جرمن قونصل کمرشل اینڈ اکنامک افئیرز مسز اینا کلاس نے کہا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی جرمنی میں کافی مانگ ہے اور پاکستان اور جرمنی کے درمیان ٹیکسٹائل سیکٹر میں گہرے تعلقات ہیں۔

گرین پاکستان پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل اریڈز نے بتایا کہ جرمنی کی حکومت نے ایک ڈیش بورڈ بنایا ہے جس کے ذریعے سسٹین ایبلٹی رپورٹ مکمل کرنے والے پاکستانی ایکسپورٹرز کے نام اور پروفائل آویزاں ہوں گے، اور یہ ڈیش بورڈ 300 جرمن درآمد کنندگان کے ساتھ براہِ راست رابطے اور برآمدی آرڈرز میں اضافہ کرنے میں مدد کرے گا۔