وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال: پاکستان 2031 تک ویکسین پروگرام خود خریدنے پر مجبور، خود کفالت ضروری ہے
Web Desk
4 February 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انسانوں کو بیماریوں سے بچانے کا نظام ہیلتھ کیئر ہے اور ویکسین اس نظام کی بنیادی کڑی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 13 بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگائی جا رہی ہیں اور صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ جو ویکسین حکومت خریدتی ہے، اس کی قیمت تقریباً 4 سے 5 سو ملین ڈالر ہے، اور 2031 تک ویکسین پروگرام ختم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین خود خریدنی ہوں گی، جس پر 1.2 ارب ڈالر کا خرچ آئے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو سک کیئر سے ہیلتھ کیئر کی طرف جانا ہوگا اور ویکسین بنانے میں خود کفیل ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو خطے میں ویکسین ایکسپورٹ کا حب بننا چاہیے اور اس حوالے سے انڈونیشیا نے تیاری میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
متعلقہ عنوانات
حوثیوں کا سعودی عرب کے دو فوجی طیارے تباہ کرنے، فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
27 October 2026
بھارتی جیلوں سے رہائی پانے والے 4 پاکستانی ماہی گیر ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے
27 October 2026
آبنائے ہرمز سے امریکی افواج کے انخلا کا ایرانی دعویٰ غلط ہے، امریکی سینٹکام
27 October 2026
روس کو عالمی گیس مارکیٹ سے نکالنے کی کوششوں کے سنگین نتائج ہوں گے، صدر پوتن
27 October 2026
خطے میں کشیدگی سے عالمی بحران پیدا ہوا اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں: احسن اقبال
27 October 2026
ایاز صادق کے چیمبر میں پیپلز پارٹی اور حکومتی وفود کی ملاقات، نئے بلز پر تحفظات کا اظہار
27 October 2026
امریکا کی مغربی ایشیا کو سکیورٹی ضمانتیں دینے میں ناکامی واضح ہوچکی: محسن رضائی
27 October 2026
پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہتے ہیں، حکومت کو 10 روز کی مہلت دے رہے: حافظ نعیم الرحمٰن
27 October 2026