LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایاز صادق کے چیمبر میں پیپلز پارٹی اور حکومتی وفود کی ملاقات، نئے بلز پر تحفظات کا اظہار امریکا کی مغربی ایشیا کو سکیورٹی ضمانتیں دینے میں ناکامی واضح ہوچکی: محسن رضائی پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہتے ہیں، حکومت کو 10 روز کی مہلت دے رہے: حافظ نعیم الرحمٰن فیصلہ سنا چکے، سندھ کی قسمت کا فیصلہ یہاں کے عوام ہی کر سکتے ہیں: بلاول بھٹو برطانیہ میں امریکی ایئربیس واقعے میں ملوث دو افراد پر فرد جرم عائد اسلام آباد ماڈل جیل کی تعمیر مکمل، افتتاح کے بعد قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا: محسن نقوی 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ریلوے نے آؤٹ سورس ٹرینوں میں بھی رعایتیں دینا لازمی قرار دے دیا پرائیویٹ حج اسکیم میں 80 فیصد بکنگ مکمل: عازمین نے 57.5 ارب روپے جمع کروا دیے، وزارتِ مذہبی امور کی ہدایت قومی اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر پر بھارت کے خلاف مذمتی قرار داد منظور ملتان: زیرتعمیر عمارت کی چھت گرنے سے مزدور ملبے تلے دب گئے، ایک جاں بحق سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، معلوماتی راہداری عوام کو قریب لائےگی: عطا تارڑ وکلاء نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کر دی قصور: 2 نابالغ بچیوں کے زبردستی نکاح کی کوشش ناکام بنا دی گئی

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال: پاکستان 2031 تک ویکسین پروگرام خود خریدنے پر مجبور، خود کفالت ضروری ہے

Web Desk

4 February 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انسانوں کو بیماریوں سے بچانے کا نظام ہیلتھ کیئر ہے اور ویکسین اس نظام کی بنیادی کڑی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 13 بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگائی جا رہی ہیں اور صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ جو ویکسین حکومت خریدتی ہے، اس کی قیمت تقریباً 4 سے 5 سو ملین ڈالر ہے، اور 2031 تک ویکسین پروگرام ختم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین خود خریدنی ہوں گی، جس پر 1.2 ارب ڈالر کا خرچ آئے گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو سک کیئر سے ہیلتھ کیئر کی طرف جانا ہوگا اور ویکسین بنانے میں خود کفیل ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو خطے میں ویکسین ایکسپورٹ کا حب بننا چاہیے اور اس حوالے سے انڈونیشیا نے تیاری میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔