LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت کے یکطرفہ اقدام کے باوجود جموں و کشمیر پر مؤقف تبدیل نہیں ہوا: اقوام متحدہ اسحاق ڈار کی شاہِ اردن سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال اسحاق ڈار کی شاہِ اردن سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال 30 دن تک بغیر دھوئے پہنے جانے والی ٹی شٹ متعارف فرانسیسی خبر رساں ادارے کی صحافی کرسٹینا کیلئے انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ اسرائیلی آرمی چیف کا غزہ میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کا اعلان پیٹریاٹ میزائل بنانے پر امریکا اور یوکرین کے مذاکرات، ٹرمپ کے تحفظات برقرار امریکا، چین اور روس کے درمیان محدود نوعیت کی نئی شراکت داریاں قائم جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے، ایک شخص جاں بحق، 11 زخمی وزیر اعظم 2 روزہ سرکاری دورے پر آج سعودی عرب روانہ ہوں گے ایران سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں، بات چیت جاری ہے: امریکی صدر سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ناگزیر قرار دیدیا چین کا افریقی ممالک میں ایبول کی وبا کے انسداد میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان کانگو میں ایبولا کی وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے نئی ویکسین کی آزمائش شروع کردی: ڈبلیو ایچ او ایران کی نئی امریکی کارروائی پر خلیج کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی وارننگ

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال: پاکستان 2031 تک ویکسین پروگرام خود خریدنے پر مجبور، خود کفالت ضروری ہے

Web Desk

4 February 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انسانوں کو بیماریوں سے بچانے کا نظام ہیلتھ کیئر ہے اور ویکسین اس نظام کی بنیادی کڑی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 13 بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگائی جا رہی ہیں اور صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ جو ویکسین حکومت خریدتی ہے، اس کی قیمت تقریباً 4 سے 5 سو ملین ڈالر ہے، اور 2031 تک ویکسین پروگرام ختم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین خود خریدنی ہوں گی، جس پر 1.2 ارب ڈالر کا خرچ آئے گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو سک کیئر سے ہیلتھ کیئر کی طرف جانا ہوگا اور ویکسین بنانے میں خود کفیل ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو خطے میں ویکسین ایکسپورٹ کا حب بننا چاہیے اور اس حوالے سے انڈونیشیا نے تیاری میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔