وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال: پاکستان 2031 تک ویکسین پروگرام خود خریدنے پر مجبور، خود کفالت ضروری ہے
Web Desk
4 February 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انسانوں کو بیماریوں سے بچانے کا نظام ہیلتھ کیئر ہے اور ویکسین اس نظام کی بنیادی کڑی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 13 بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگائی جا رہی ہیں اور صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ جو ویکسین حکومت خریدتی ہے، اس کی قیمت تقریباً 4 سے 5 سو ملین ڈالر ہے، اور 2031 تک ویکسین پروگرام ختم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین خود خریدنی ہوں گی، جس پر 1.2 ارب ڈالر کا خرچ آئے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو سک کیئر سے ہیلتھ کیئر کی طرف جانا ہوگا اور ویکسین بنانے میں خود کفیل ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو خطے میں ویکسین ایکسپورٹ کا حب بننا چاہیے اور اس حوالے سے انڈونیشیا نے تیاری میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
متعلقہ عنوانات
بھارت کے یکطرفہ اقدام کے باوجود جموں و کشمیر پر مؤقف تبدیل نہیں ہوا: اقوام متحدہ
6 August 2026
اسحاق ڈار کی شاہِ اردن سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
6 August 2026
اسحاق ڈار کی شاہِ اردن سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
6 August 2026
30 دن تک بغیر دھوئے پہنے جانے والی ٹی شٹ متعارف
6 August 2026
فرانسیسی خبر رساں ادارے کی صحافی کرسٹینا کیلئے انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ
6 August 2026
اسرائیلی آرمی چیف کا غزہ میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کا اعلان
6 August 2026
پیٹریاٹ میزائل بنانے پر امریکا اور یوکرین کے مذاکرات، ٹرمپ کے تحفظات برقرار
6 August 2026
امریکا، چین اور روس کے درمیان محدود نوعیت کی نئی شراکت داریاں قائم
6 August 2026