LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسائل کا حل نہیں، جمہوریت دشمنی کا سفر جاری ہے: حافظ نعیم الرحمان خیبر پختونخوا کے حکومتی امور سے متعلق وفاقی حکمنامہ جاری، 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا: محسن نقوی وفاقی دارالحکومت میں ریڈ الرٹ جاری: حساس عمارتوں پر رینجرز تعینات، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتاریوں کا حکم پختونخوا میں ایمرجنسی: اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی ہائی الرٹ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جے یو آئی کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس طلب؛ مولانا فضل الرحمان میڈیا بریفنگ دیں گے کے پی میں بڑا بیوروکریٹک الٹ پھیر: پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 15 اعلیٰ افسران کے صوبے سے تبادلے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی: گورنر خیبر پختونخوا ایمرجنسی کے بعد پہلا نوٹیفکیشن، فخر عالم چیف سیکرٹری کے پی تعینات ایمرجنسی قابل مذمت، فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے: بیرسٹر گوہر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، صدرِ مملکت نے منظوری دے دی آئی ایم ایف معاہدہ اور معاشی استحکام بڑی کامیابی؛ سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا کوئی جواز نہیں: وزیراعظم شہباز شریف سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے اسلحہ سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی پاکستان کی ریاض پر حوثی حملے کی مذمت، سعودی خودمختاری کے تحفظ کا عزم

جیل سپرنڈنٹ کی بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے الزامات کی تردید

Web Desk

6 August 2026

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک تفصیلی رپورٹ جمع کراتے ہوئے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے تمام الزامات کی سخت تردید کر دی ہے۔ جیل حکام نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کو جیل مینوئل کے مطابق دیگر تمام قیدیوں کی طرح قانون کے تحت مقررہ سہولیات اور حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔

ہائی کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا کیونکہ جیلوں میں قیدِ تنہائی کا نظام عملاً ختم ہو چکا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بشریٰ بی بی سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہیں، اس لیے ان کی سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی حفاظتی تدابیر اختیار کی گئی ہیں، تاہم ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی یا غیر مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا۔

رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کی دیکھ بھال خواتین افسران اور لیڈی عملہ کر رہا ہے۔ ایک خاتون میڈیکل آفیسر روزانہ کم از کم دو بار ان کا طبی معائنہ کرتی ہیں، جبکہ انہیں قدرتی روشنی، تازہ ہوا اور جیل مینوئل کے مطابق کامل رازداری کی سہولت حاصل ہے۔ مزید برآں، انہیں ہر منگل کے روز اپنے شوہر سے ملاقات کی اجازت بھی میسر ہے۔ جیل حکام نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ قیدِ تنہائی سے متعلق دائر درخواست حقائق کے بجائے محض مفروضوں پر مبنی ہے، لہٰذا اسے مسترد کیا جائے۔ اس معاملے کا حتمی فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ فریقین کے دلائل کے بعد کرے گی

متعلقہ عنوانات