LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آسٹریا کا تہران میں سفارت خانہ معمول کے مطابق فعال ہوگیا امریکا نے ایران کی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی ناقابل قبول قرار دیدی اسرائیلی طیاروں کی جنوبی لبنان کے ضلع بنت جبیل کی وادی پر بمباری اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، مذاکرات جنگ کا متبادل ہیں: جبران باسیل ٹرمپ انتظامیہ کو خدشہ تھا اسرائیل ایرانی مذاکرات کاروں کو قتل کر سکتا ہے: امریکی میڈیا پیدائشی شہریت کا کیس ہارنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کا پلان بی سامنے آگیا امریکا نے مغربی ایشیا میں امن و سلامتی کو مسلسل نظر انداز کیا: اسماعیل بقائی شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی امام خمینی حسینیہ منتقل ایران ہماری تقریباً تمام ضروری شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا ہے، امریکی صدر کا دعویٰ اسرائیلی فوجیوں کا فلسطینی قیدی پر تشدد؛ سوشل میڈیا پر وائرل تصویر نے کہرام مچادیا خطے میں پائیدار امن صرف بیرونی مداخلت کے بغیر ہی ممکن ہے، عباس عراقچی کوئی بھی ملک پاکستان کو بنجر زمین میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس نوعیت کے خطرے کا مقابلہ کرسکتے ہیں: دفترخارجہ پی ایس 30 خیرپور پر ضمنی انتخاب 16 اگست کو ہوگا، شیڈول جاری نیٹو پر سب سے زیادہ خرچ ہم کرتے ہیں، باقی ممالک امریکا پر انحصار چھوڑیں، ٹرمپ ایئر چیف کا دورۂ بیلاروس، پاکستان دفاعی تعاون کے نئے مرحلے میں داخل

حکومت برآمدات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام

Web Desk

3 July 2026

وفاقی حکومت گزشتہ مالی سال کے دوران برآمدات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کا سالانہ تجارتی خسارہ 7 ارب ڈالر تک بڑھ گیا ہے۔ یہ رقم آئی ایم ایف کے تقریباً تین سالہ بیل آؤٹ پیکیج کے کل حجم کے برابر ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے لیے برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا، تاہم برآمدی آمدن 6 فیصد کمی کے بعد صرف 30.1 ارب ڈالر رہ سکی۔ یوں حکومت ہدف سے 5.2 ارب ڈالر پیچھے رہ گئی۔ اس کے برعکس، بجٹ میں درآمدی ڈیوٹی میں نرمی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے درآمدات میں دو ہندسوں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے تجارتی خسارے کو مزید گہرا کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ناکامی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پلاننگ کمیشن نے قومی اقتصادی کونسل (NEC) کو سفارش کی تھی کہ معاشی مراعات کو تحفظ پسندی اور رینٹ سیکنگ کے بجائے پیداواری صلاحیت اور برآمدی کارکردگی سے منسلک کیا جائے۔ تاہم، حکومت نے اس سفارش پر عمل درآمد کرنے کے بجائے روایتی انداز میں عمومی نوعیت کی برآمدی سبسڈیز کا سلسلہ جاری رکھا۔

معاشی محاذ پر حکومت کو دوسرا بڑا دھچکا ٹیکس وصولیوں میں لگا ہے، جہاں حکومت مالی سال 2025-26 کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مقرر کردہ ہدف سے 975 ارب روپے (تقریباً 3.5 ارب ڈالر) کم ٹیکس جمع کر سکی۔ برآمدات میں مسلسل منفی رجحان اور ٹیکس اہداف میں ناکامی نے ملکی معیشت کی بنیادی ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔