LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران ہماری تقریباً تمام ضروری شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا ہے، امریکی صدر کا دعویٰ اسرائیلی فوجیوں کا فلسطینی قیدی پر تشدد؛ سوشل میڈیا پر وائرل تصویر نے کہرام مچادیا خطے میں پائیدار امن صرف بیرونی مداخلت کے بغیر ہی ممکن ہے، عباس عراقچی کوئی بھی ملک پاکستان کو بنجر زمین میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس نوعیت کے خطرے کا مقابلہ کرسکتے ہیں: دفترخارجہ پی ایس 30 خیرپور پر ضمنی انتخاب 16 اگست کو ہوگا، شیڈول جاری نیٹو پر سب سے زیادہ خرچ ہم کرتے ہیں، باقی ممالک امریکا پر انحصار چھوڑیں، ٹرمپ ایئر چیف کا دورۂ بیلاروس، پاکستان دفاعی تعاون کے نئے مرحلے میں داخل دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس ، سنگاپور پہلے ، یو اے ای، جاپان اور جنوبی کوریا دوسرے نمبر پر انڈونیشیا میں علیحدگی پسندوں نے امریکی پائلٹ کو قتل کرکے طیارے کو آگ لگا دی پاکستان تحریک انصاف کا آزاد کشمیر کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کریں گے؛ لبنانی صدر اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت پر اطمینان جنگ بندی غفلت نہیں، ایران دفاعی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے: ترجمان ایرانی فوج لبنان اور شام کے درمیان عدم مداخلت کا معاہدہ طے پا گیا دمشق میں کیفے کے قریب کار دھماکا، 5 افراد جاں بحق، 16 زخمی

اسرائیلی فوجیوں کا فلسطینی قیدی پر تشدد؛ سوشل میڈیا پر وائرل تصویر نے کہرام مچادیا

Web Desk

2 July 2026

سوشل میڈیا پر ہونے والے شدید عالمی احتجاج نے اسرائیلی حکومت اور عسکری قیادت کو بالآخر ان فوجیوں کے خلاف کارروائی اور تحقیقات شروع کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جنہوں نے ایک فلسطینی قیدی پر ظلم و تشدد کی تمام حدیں پار کر دی تھیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، اسرائیلی فوج نے باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس لرزہ خیز تصویر میں قیدی پر بدترین تشدد کرنے والے فوجی اہلکاروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے، اس کے ہاتھ اور پاؤں بستر کے ساتھ جکڑے گئے ہیں اور اسرائیلی فوجی اہلکار اس بے بس قیدی پر تشدد کر رہے ہیں۔ تصویر سامنے آنے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعے کی مکمل اور باریک بینی سے جانچ پڑتال کے بعد اس مکروہ فعل میں ملوث اہلکاروں کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور ان کے متعلقہ کمانڈرز کی جانب سے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عسکری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف نتائج کی روشنی میں مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب، اسرائیلی ترجمان نے یہ دفاعی مؤقف بھی اپنایا کہ اسرائیل مخالف بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا یہ دعویٰ سراسر جھوٹا ہے کہ یہ تصویر شمالی غزہ میں ‘کفیر بریگیڈ’ کی ‘نیتزاح یہودا بٹالین’ کی کارروائی کے دوران لی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تصویر کو اس مخصوص ملٹری آپریشن سے جوڑنا غلط معلومات پر مبنی ہے۔ تاہم، ہمیشہ کی طرح اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی مزید تفصیلات، متاثرہ فلسطینی شخص کی شناخت، اور واقعے کے اصل مقام یا وقت کے بارے میں کوئی بھی معلومات جاری کرنے سے گریز کیا ہے اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ یہ تصویر کس آپریشن کے دوران کھینچی گئی تھی۔