LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی ثالثی میں ہونیوالے معاہدے سے لبنانی علاقے اسرائیل میں ضم ہونےکاخدشہ ہے، حزب اللہ نےلبنان اسرائیل معاہدہ مسترد کر دیا سعودی عرب نے 3 ممالک پر سفری پابندیاں عائد کردیں پاکستان اور ایران دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے پُرعزم اسرائیلی فوج کا اسماعیل ہنیہ کے بھتیجے کو شہید کرنے کا دعویٰ بحرین پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے، قطر، یو اے ای، کویت اور جی سی سی کی مذمت غزہ میں اسرائیل کا فلسطینی پولیس گاڑی پر ڈرون حملہ، تین اہلکار شہید کراچی میں فائرنگ اور دھماکے کی اطلاعات، وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس فرانس اور یورپ میں جان لیوا ہیٹ ویو کی اصل وجہ ‘اومیگا بلاک’! آخر یہ کیا ہے؟ پہاڑی اور بالائی علاقوں میں گلیشئر پگھلنے اورممکنہ خطرات کا الرٹ جاری کردیا گیا۔ جاپان میں دوہرے سمندری طوفان اور شدید بارشیں, سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا ہائی الرٹ، پروازیں اور ٹرینیں معطل چیف جسٹس آئینی عدالت کا دورہ روس، لیگل فورم میں شرکت، عدالتی تعاون پر تبادلہ خیال ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ سرگودھا زیادتی کرکے 14 سالہ لڑکے کو زندہ دفن کرنے والے 2 ملزمان گرفتار وینزویلا کے اثرات، بلوچستان میں کل سے اب تک 5 زلزلے ریکارڈ، مزید جھٹکوں کا امکان ٹرمپ کا 4 جولائی کو یومِ آزادی پر امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اور منفرد ایئر شو کا اعلان

پاکستان اور ایران دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے پُرعزم

Web Desk

27 June 2026

پاکستان اور ایران نے باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے دوطرفہ تجارت کے حجم کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان تفتان بارڈر ریلوے اسٹیشن کے ذریعے باقاعدہ تجارت شروع کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یہ اہم پیشرفت پاکستان اور ایران کے ریلوے حکام کے درمیان ہونے والی حالیہ ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت تفتان ریلوے اسٹیشن پر تجارتی سامان کی لوڈنگ، ان لوڈنگ، کسٹمز کلیئرنس اور درآمد و برآمد (امپورٹ و ایکسپورٹ) کی تمام جدید سہولیات یکجا فراہم کی جائیں گی۔ دونوں ممالک کے درمیان قانونی تجارت کو فروغ ملے گا۔ ریلوے کے ذریعے نقل و حمل سے تاجروں کے سفری اور مال برداری کے اخراجات میں واضح کمی آئے گی۔ کسٹمز کلیئرنس اور دیگر سہولیات ایک ہی جگہ ہونے سے سامان کی ترسیل تیز اور آسان ہو جائے گی۔   حکام کا ماننا ہے کہ اس اسٹریٹجک اقدام سے نہ صرف دونوں پڑوسی ممالک کے معاشی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ سرحدی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔