LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ

ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

Web Desk

27 June 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا اور حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت خود اپنی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی اور امریکا کی جانب سے انہیں ہلاک کیے جانے کے بعد تہران کی قیادت اندرونی طور پر ’’خوش‘‘ تھی۔ روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی ڈرون حملے کا دفاع کیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ ایرانی قیادت کے حوالے سے  ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا”میرے خیال میں علی خامنہ ای اور ایران میں دیگر اعلیٰ حکام بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو ختم کیا، کیونکہ ایرانی حکومت خود ان سے خوف زدہ تھی۔ سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی حد سے زیادہ طاقت ور شخصیت بن چکے تھے۔”

ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کو اپنے پہلے دورِ حکومت کے دوران قتل کروائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ایک ‘جینئس’ (ذہین شخص) بھی قرار دیا، تاہم ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ وہ امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے میں ملوث تھے۔ واضح رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے روایتی طنزیہ انداز اپناتے ہوئے اور آواز کی نقل اتارتے ہوئے مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ صدر کون بنے گا، تو سب آگے سے کہتے ہیں، “نہیں نہیں، شکریہ!” دوسری جانب، فوجی رابطے کا نیا چینل قائم کرنے سے متعلق بیانات کو ایران کی جانب سے سراسر جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے اور ایرانی حکام نے اس کی سخت تردید کی ہے۔