LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فرانس اور یورپ میں جان لیوا ہیٹ ویو کی اصل وجہ ‘اومیگا بلاک’! آخر یہ کیا ہے؟ پہاڑی اور بالائی علاقوں میں گلیشئر پگھلنے اورممکنہ خطرات کا الرٹ جاری کردیا گیا۔ جاپان میں دوہرے سمندری طوفان اور شدید بارشیں, سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا ہائی الرٹ، پروازیں اور ٹرینیں معطل چیف جسٹس آئینی عدالت کا دورہ روس، لیگل فورم میں شرکت، عدالتی تعاون پر تبادلہ خیال ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ سرگودھا زیادتی کرکے 14 سالہ لڑکے کو زندہ دفن کرنے والے 2 ملزمان گرفتار وینزویلا کے اثرات، بلوچستان میں کل سے اب تک 5 زلزلے ریکارڈ، مزید جھٹکوں کا امکان ٹرمپ کا 4 جولائی کو یومِ آزادی پر امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اور منفرد ایئر شو کا اعلان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید ساڑھے چار فیصد کی کمی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا مالیاتی نیٹ ورک بے نقاب، متعدد افراد گرفتار پاکستان میں 60 دن کے اندر ادویات پر بارکوڈ متعارف کرایا جائے گا، مصطفیٰ کمال عالمی و مقامی سطح پر سونے چاندی کی قیمتوں میں کمی امریکا نے زلزلے سے متاثر وینزویلا پر سے پابندیاں اُٹھالیں عمران خان کو 22 اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، علیمہ خان امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی

فرانس اور یورپ میں جان لیوا ہیٹ ویو کی اصل وجہ ‘اومیگا بلاک’! آخر یہ کیا ہے؟

Web Desk

27 June 2026

فرانس سمیت پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی حالیہ جان لیوا اور شدید ترین ہیٹ ویو کی اصل سائنسی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اس خوفناک گرمی کی بنیادی وجہ ایک خاص اور ضدی موسمی نظام ہے، جسے سائنسی زبان میں ‘اومیگا بلاک’ (Omega Block) کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ‘اومیگا بلاک’ ہوا کے دباؤ کا ایک ایسا مخصوص پیٹرن ہے جس میں دو سرد اور کم دباؤ (Low Pressure) والے موسمی حصوں کے درمیان ہائی پریشر (ہوا کے زیادہ دباؤ) کا ایک شدید گرم حصہ پھنس جاتا ہے۔ عام حالات میں کرہ ارض پر چلنے والی ہوائیں موسم کو مغرب سے مشرق کی طرف دھکیلتی رہتی ہیں، لیکن ‘اومیگا بلاک’ کے بننے سے ہوا کا یہ قدرتی بہاؤ مکمل طور پر رک جاتا ہے اور گرم ہوا ایک ہی جگہ پر محصور ہو کر رہ جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بلاک عام حالات میں 3 سے 10 دن تک رہتا ہے، لیکن موجودہ تشویشناک صورتحال میں یہ کئی ہفتوں سے برقرار ہے۔ اس شدید ہائی پریشر کی وجہ سے فضا میں بادل نہیں بن پا رہے، جس کے باعث فرانس، اسپین اور برطانیہ میں سورج کی براہِ راست تپش نے گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ‘ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن’ کے ماہرین نے اپنی حالیہ تحقیقی رپورٹ میں واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں کو جھنجھوڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے بغیر یورپ میں اس نوعیت کی ریکارڈ توڑ گرمی کا ہونا بالکل ناممکن تھا۔ صنعتی دور کے آغاز سے اب تک کوئلہ، تیل اور گیس کے بے دریغ استعمال کے باعث زمین کا اوسط درجہ حرارت 1.4 ڈگری سیلسیس تک بڑھ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر میں ہیٹ ویوز زیادہ طویل، شدید اور کثرت سے آ رہی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر زہریلی گیسوں کا اخراج فوری کم نہ کیا گیا تو دنیا مزید بڑی ماحولیاتی تباہی کا شکار ہو جائے گی۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی اور یورپی ممالک ایک طویل عرصے سے ایشیا کے ترقی پذیر ملکوں کو صنعتوں سے مضرِ صحت گیسوں کے اخراج پر بار بار وارننگ جاری کر رہے تھے اور 10 سال پہلے ان پر پابندیاں لگانے کا اشارہ بھی دے چکے تھے۔