LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم

فرانس اور یورپ میں جان لیوا ہیٹ ویو کی اصل وجہ ‘اومیگا بلاک’! آخر یہ کیا ہے؟

Web Desk

27 June 2026

فرانس سمیت پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی حالیہ جان لیوا اور شدید ترین ہیٹ ویو کی اصل سائنسی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اس خوفناک گرمی کی بنیادی وجہ ایک خاص اور ضدی موسمی نظام ہے، جسے سائنسی زبان میں ‘اومیگا بلاک’ (Omega Block) کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ‘اومیگا بلاک’ ہوا کے دباؤ کا ایک ایسا مخصوص پیٹرن ہے جس میں دو سرد اور کم دباؤ (Low Pressure) والے موسمی حصوں کے درمیان ہائی پریشر (ہوا کے زیادہ دباؤ) کا ایک شدید گرم حصہ پھنس جاتا ہے۔ عام حالات میں کرہ ارض پر چلنے والی ہوائیں موسم کو مغرب سے مشرق کی طرف دھکیلتی رہتی ہیں، لیکن ‘اومیگا بلاک’ کے بننے سے ہوا کا یہ قدرتی بہاؤ مکمل طور پر رک جاتا ہے اور گرم ہوا ایک ہی جگہ پر محصور ہو کر رہ جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بلاک عام حالات میں 3 سے 10 دن تک رہتا ہے، لیکن موجودہ تشویشناک صورتحال میں یہ کئی ہفتوں سے برقرار ہے۔ اس شدید ہائی پریشر کی وجہ سے فضا میں بادل نہیں بن پا رہے، جس کے باعث فرانس، اسپین اور برطانیہ میں سورج کی براہِ راست تپش نے گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ‘ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن’ کے ماہرین نے اپنی حالیہ تحقیقی رپورٹ میں واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں کو جھنجھوڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے بغیر یورپ میں اس نوعیت کی ریکارڈ توڑ گرمی کا ہونا بالکل ناممکن تھا۔ صنعتی دور کے آغاز سے اب تک کوئلہ، تیل اور گیس کے بے دریغ استعمال کے باعث زمین کا اوسط درجہ حرارت 1.4 ڈگری سیلسیس تک بڑھ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر میں ہیٹ ویوز زیادہ طویل، شدید اور کثرت سے آ رہی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر زہریلی گیسوں کا اخراج فوری کم نہ کیا گیا تو دنیا مزید بڑی ماحولیاتی تباہی کا شکار ہو جائے گی۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی اور یورپی ممالک ایک طویل عرصے سے ایشیا کے ترقی پذیر ملکوں کو صنعتوں سے مضرِ صحت گیسوں کے اخراج پر بار بار وارننگ جاری کر رہے تھے اور 10 سال پہلے ان پر پابندیاں لگانے کا اشارہ بھی دے چکے تھے۔