LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ سرگودھا زیادتی کرکے 14 سالہ لڑکے کو زندہ دفن کرنے والے 2 ملزمان گرفتار وینزویلا کے اثرات، بلوچستان میں کل سے اب تک 5 زلزلے ریکارڈ، مزید جھٹکوں کا امکان ٹرمپ کا 4 جولائی کو یومِ آزادی پر امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اور منفرد ایئر شو کا اعلان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید ساڑھے چار فیصد کی کمی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا مالیاتی نیٹ ورک بے نقاب، متعدد افراد گرفتار پاکستان میں 60 دن کے اندر ادویات پر بارکوڈ متعارف کرایا جائے گا، مصطفیٰ کمال عالمی و مقامی سطح پر سونے چاندی کی قیمتوں میں کمی امریکا نے زلزلے سے متاثر وینزویلا پر سے پابندیاں اُٹھالیں عمران خان کو 22 اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، علیمہ خان امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی 18 سال سے کم عمر کی شادی کیخلاف قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج سکیورٹی فورسز کی خاران اور مستونگ میں کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب

وینزویلا کے اثرات، بلوچستان میں کل سے اب تک 5 زلزلے ریکارڈ، مزید جھٹکوں کا امکان

Web Desk

27 June 2026

بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درمیانے درجے کے 5 زلزلے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق، آج صبح بارکھان اور اس کے قریبی علاقوں میں 5.2 شدت کا شدید زلزلہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ زلزلوں کے مراکز اور گہرائی کی تفصیلات اعداد و شمار کے مطابق، صوبے کے مختلف اضلاع زلزلوں کی زد میں رہے۔ کوہلو اور مضافات میں زلزلے کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی، جس کی گہرائی 18 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز شہر سے 65 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔ سبی میں زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی، جس کی گہرائی 42 کلومیٹر تھی اور زلزلے کا مرکز شہر سے 57 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔

محکمۂ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر لغاری نے ان زلزلوں کی سائنسی وجہ بتاتے ہوئے واضح کیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دونوں ‘یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ’ (Eurasian Tectonic Plate) پر واقع ہیں۔ یہ حالیہ زلزلے اسی پلیٹ کی اوپری سطح پر آ رہے ہیں جو دراصل عالمی زلزلوں کا اثر ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد زمین کے اندر پیدا ہونے والی توانائی کی لہریں (Energy Waves) اب منتقل ہو کر اس سے منسلک ٹیکٹونک پلیٹوں پر زلزلوں کا سبب بن رہی ہیں۔ امیر حیدر لغاری نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ 2000ء سے 2011ء کے دوران انڈونیشیا میں آنے والے بڑے زلزلوں کے بعد ہی کشمیر میں تباہ کن زلزلہ آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین کے اندر پیدا ہونے والی اس توانائی کی لہروں کے مکمل طور پر ختم ہونے تک خطے میں مزید زلزلے آنے کا امکان موجود ہے، تاہم سائنسی طور پر زلزلے کے درست وقت اور حتمی شدت کی پیش گوئی کرنا اب بھی ناممکن ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔