افغانستان میں دہشتگردوں کیخلاف 56 سٹرائیکس کی جا چکیں: سکیورٹی ذرائع
Web Desk
5 March 2026
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف 56 آپریشنز کیے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد افغان عوام نہیں بلکہ دہشت گردوں کو نشانہ بنانا ہے۔ افغان فورسز ٹی ٹی پی کو سہولت اور تحفظ فراہم کر رہی ہیں، اور دہشت گرد قیادت شہری علاقوں میں چھپی ہوئی ہے۔
پاک فوج نے دہشت گردوں کے مراکز، بشمول بگرام اور دیگر علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ سرحدی علاقوں میں کرمنل نیٹ ورک بھی فعال تھا۔ ملک میں روزانہ 200 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں، مدارس کی رجسٹریشن، ادویہ اصلاحات اور غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی پر عمل جاری ہے۔ بنوں میں بچی پر تشدد کے واقعے کو انتہا پسندی کی بدترین مثال قرار دیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے تو دہشت گردی ختم کی جا سکتی ہے، اور پاکستان میں شریعت نافذ کرنے والے عناصر کی اجازت نہیں۔ عوام اور قیادت فورسز کی قربانیوں پر افسردہ مگر پُرعزم ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم سے ملاقات، شہباز شریف کا خلیج میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار
21 July 2026
کویت نے آئل ٹینکر پر حملے کے خلاف ایرانی سفیر کو طلب کرلیا
21 July 2026
نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ کی تارکینِ وطن کے لیے جعل سازوں کے حوالے سے الرٹ جاری
21 July 2026
بحری ناکہ بندی کے دوران 8 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، ایک ناکارہ بنا دیا: سینٹ کام
21 July 2026
قطر کا حملوں سے نقصانات کے ازالے کیلئے ایران سے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ
21 July 2026
ایران کا خطے میں امریکی اڈوں پر تابڑ توڑ حملوں، ریڈار سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ
21 July 2026
امریکی صدر ٹرمپ نے نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی
21 July 2026
برازیل اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ : نیا محاذ کھل گیا
21 July 2026