LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز طاقتور طوفان سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی جانب گامزن، شدید بارش اور آندھی کا الرٹ جاری سعودی عرب کا غیرملکیوں کیلئے ویزا میعاد میں توسیع کا اعلان ٹرمپ ایران میں ایسا لیڈر چاہتے ہیں جو امریکا مخالف نعرے نہ لگائے، وائٹ ہاؤس پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ گرفتار وفاقی حکومت کا ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کمی کا فیصلہ چین کی بڑی شپنگ کمپنی نے خلیجی ممالک کیلئے بکنگ دوبارہ بحال کردی ایران نے جنگ بندی کی تمام امریکی تجاویز مسترد کردیں،اپنی 5 تجاویزپاکستان کے حوالے کردیں ایران کے آپریشن وعدہ صادق 4کی 81ویں لہر، 70سےزائد اسرائیلی اہداف پرحملے وزیراعظم کا قطری امیرسے ٹیلی فونک رابطہ، جنگ رکوانے کے لیے سفارتی کوششوں پر گفتگو پاکستان اورچین کی 9روزہ  بحری مشق ’سی گارڈین 4‘ کا آغاز قومی سلامتی کمیٹی کی کارکردگی اور اثرات کی جائزہ رپورٹ جاری وزیر اعظم کی اشیاء خورونوش کی خلیجی ممالک کو برآمد کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت وزیراعظم اور بلاول بھٹو کی ملاقات، ایران جنگ میں پاکستان کے کردار پر اعتماد میں لیا وزارت خارجہ کی مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر قیاس آرائی سے گریز کی ہدایت

او جی ڈی سی ایل کو سرکلر ڈیٹ سیٹلمنٹ کے تحت نویں قسط کی ادائیگی

Web Desk

25 March 2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکلر ڈیٹ سیٹلمنٹ پلان (Circular Debt Settlement Plan) کے تحت ملک کی سب سے بڑی تیل و گیس دریافت کرنے والی کمپنی، او جی ڈی سی ایل (OGDCL) کو نویں قسط فراہم کر دی ہے۔ اس سلسلے میں پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے 7 ارب 72 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔ یہ ادائیگیاں منظور شدہ میکانزم کے تحت ٹرم فنانس سرٹیفکیٹس (TFCs) کے ذریعے عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

او جی ڈی سی ایل نے ان ٹرم فنانس سرٹیفکیٹس کی تمام تر تفصیلات پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) اور لندن اسٹاک ایکسچینج (LSE) کو باقاعدہ طور پر ارسال کر دی ہیں۔ حکومتی مراسلے کے مطابق، گردشی قرضوں کی مد میں مجموعی طور پر 92 ارب روپے کے سود کی ادائیگی 12 ماہ کی اقساط میں مکمل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے، جس کا آغاز جولائی 2025 سے ہوا تھا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گردشی قرضوں کی اس منظم ادائیگی سے سرکاری اداروں کے مالی استحکام میں بہتری آئے گی اور توانائی کے شعبے میں مالی شفافیت کو فروغ ملے گا۔ اس اقدام سے انرجی سیکٹر کی کمپنیوں کے کیش فلو (Cash Flow) میں بہتری متوقع ہے، جو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی تلاش اور پیداوار کے عمل کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔