LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا کی آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیاں، ایران نے نتائج سے خبردار کر دیا پاور ڈویژن کی ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تصدیق ٹرمپ کی برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

ایران اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط میں پیشرفت، گبد بارڈر ٹرمینل فعال

Web Desk

15 April 2026

پاکستان کے نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (NLC) نے علاقائی تجارت اور رابطوں کے فروغ میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے گبد بارڈر ٹرمینل کو بین الاقوامی سڑکوں کے ذریعے ترسیلی نظام (TIR) کے لیے باقاعدہ فعال کر دیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کا آغاز کراچی سے ازبکستان کے شہر تاشقند کے لیے بھیجے گئے گوشت کے کنٹینروں کی ترجیحی ہینڈلنگ اور کلیئرنس سے ہوا۔ کسٹم کی تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ کھیپ ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے راستے ازبکستان روانہ کر دی گئی ہے، جو کہ پاکستان کی وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا ایک نیا اور مؤثر باب ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق، ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی کا یہ راستہ روایتی افغانستان روٹ کے مقابلے میں زیادہ مختصر، محفوظ اور جدید ہے۔ اس متبادل راہداری نے نہ صرف پاکستان کی وسطی ایشیائی منڈیوں تک براہِ راست رسائی کو یقینی بنایا ہے بلکہ افغانستان پر تجارتی انحصار کو بھی ختم کر دیا ہے۔ پاک-ایران تجارت کو باضابطہ بنانے کے لیے این ایل سی نے مارچ 2024 میں اس ٹرمینل کی تعمیر مکمل کی تھی، جو اب بین الاقوامی تجارتی قافلوں کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اسٹریٹیجک لحاظ سے یہ پیش رفت پاکستان کو ریجنل کنیکٹیویٹی ہب بنانے کی جانب بڑا قدم ہے۔ نئے روٹ سے لاجسٹکس اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور برآمدات کے حجم میں اضافہ ہوگا۔ گوادر پورٹ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے گبد-رمدان راہداری مستقبل میں سی پیک (CPEC) کے متبادل اور معاون تجارتی گزرگاہ کے طور پر ابھرے گی، جس سے نہ صرف چین بلکہ وسطی ایشیا کے ساتھ بھی پاکستان کے اقتصادی تعلقات ایک نئی بلندی پر پہنچ جائیں گے۔