LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز اسحاق ڈار سے ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے کا ٹیلی فونک رابطہ، مختلف امور پر تبادلہ خیال حیدرآباد میں بی آئی ایس پی مستحقین سے غیر قانونی کٹوتیوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نئے صوبے بنانے کی مشروط حمایت کردی

Web Desk

9 December 2025

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ سے دو آئینی ترامیم ہی کافی ہیں، مزید ترامیم کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے پہلے وہاں قدم اٹھایا جائے جہاں اتفاقِ رائے پہلے سے موجود ہے۔

سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں بلاول نے کہا کہ پنجاب کی تقسیم کا تصور بھی نہیں کر سکتے، البتہ جنوبی پنجاب کے صوبے پر سینیٹ کی کمیشن رپورٹ موجود ہے اور اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی پہلے ہی اس حوالے سے قرارداد منظور کر چکی ہے، لہٰذا عملی پیش رفت اسی سے شروع ہونی چاہیے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بلدیاتی نظام پر قانون سازی کی گئی، اگر سندھ میں ایسا ہوتا تو شدید ردعمل آتا۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی حلقوں کو پنجاب میں اُن کا آنا ہضم نہیں ہوتا، لیکن وہ خود دوسروں کو سندھ آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ حکومت سازی کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب میں وزارتیں نہیں لیں گے اور اتحادیوں کو بھی اپنی سیاسی گنجائش بنانی پڑتی ہے۔

پیپلزپارٹی چیئرمین نے کہا کہ آئین کوئی ایسی کتاب نہیں جسے بار بار تبدیل کیا جائے، مفاہمت ہی سیاست کا بہتر راستہ ہے۔ مخالفانہ ماحول میں رہ کر مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔

بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ان سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں مگر ان کا طریقہ کار غلط ہے، اور جہاں پی ٹی آئی کی حکومت تھی وہ ناکام ثابت ہوئی۔

نواز شریف سے ملاقات کے سوال پر بلاول نے بتایا کہ وہ کوٹ لکھپت گئے تھے، مگر باہر آتے ہی ایک جلسے میں ان پر سیاسی حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پیپلز پارٹی مفاہمت کیلئے قدم بڑھاتی ہے، بعض قوتیں حالات خراب کردیتی ہیں۔

وزارتِ عظمیٰ کے سوال پر بلاول نے کانوں کو ہاتھ لگا کر بات ٹال دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں گورنر کے اختیارات محدود ہیں لیکن سلیم حیدر اور وزیراعلیٰ پنجاب دونوں اچھا کام کر رہی ہیں۔