LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جولائی میں حادثے کا شکار K2 ایئرویز کے کارگو طیارے کا بلیک باکس تلاش، پاک بحریہ کی سمندر میں تاریخ ساز کامیابی صومالیہ میں ہائی جیک جہاز کیلئے آپریشن، قزاقوں کی فائرنگ سے 3 پاکستانیوں سمیت 5 جاں بحق پاسدارانِ انقلاب کا امریکی عوام کے نام کھلا خط، ٹرمپ پالیسیوں کی مخالفت کا مطالبہ عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں آئے، ہر پالیسی عوام کیلئے ہونی چاہئے: سہیل آفریدی روس میں ٹی یو 95 فوجی طیارہ گر کر تباہ، 6 اہلکار ہلاک پی اے ای سی اور او جی ڈی سی ایل کے درمیان لیتھیم منصوبے پر تعاون کا معاہدہ اسحاق ڈار کی کفایت شعاری اقدامات کے فیصلوں پر عملدرآمد کی ہدایت کیلیفورنیا میں اسلامی تہواروں پر تعطیلات کو سرکاری قرار دیدیا گیا وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ کا 4 روزہ دورہ مکمل کر کے وطن روانہ گورنر کے پی کا دہشتگردی کیخلاف مشترکہ کوششوں پر زور، صوبائی حکومت پر تنقید پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا لائحہ عمل تیار کرلیا وزیراعظم کا لندن سٹاک ایکسچینج کا دورہ، معیشت مضبوط بنانے کیلئے بہت محنت کی: خطاب پاکستان 2027 میں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس کی میزبانی کرے گا: احسن اقبال ایک ہفتے میں یوکرینی حملوں سے 41 شہری ہلاک، 274 زخمی ہوئے، روسی سفارت کار روس اور امریکا کے درمیان حل طلب معاملات پر رابطے جلد ہونگے: سرگئی لاوروف

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نئے صوبے بنانے کی مشروط حمایت کردی

Web Desk

9 December 2025

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ سے دو آئینی ترامیم ہی کافی ہیں، مزید ترامیم کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے پہلے وہاں قدم اٹھایا جائے جہاں اتفاقِ رائے پہلے سے موجود ہے۔

سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں بلاول نے کہا کہ پنجاب کی تقسیم کا تصور بھی نہیں کر سکتے، البتہ جنوبی پنجاب کے صوبے پر سینیٹ کی کمیشن رپورٹ موجود ہے اور اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی پہلے ہی اس حوالے سے قرارداد منظور کر چکی ہے، لہٰذا عملی پیش رفت اسی سے شروع ہونی چاہیے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بلدیاتی نظام پر قانون سازی کی گئی، اگر سندھ میں ایسا ہوتا تو شدید ردعمل آتا۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی حلقوں کو پنجاب میں اُن کا آنا ہضم نہیں ہوتا، لیکن وہ خود دوسروں کو سندھ آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ حکومت سازی کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب میں وزارتیں نہیں لیں گے اور اتحادیوں کو بھی اپنی سیاسی گنجائش بنانی پڑتی ہے۔

پیپلزپارٹی چیئرمین نے کہا کہ آئین کوئی ایسی کتاب نہیں جسے بار بار تبدیل کیا جائے، مفاہمت ہی سیاست کا بہتر راستہ ہے۔ مخالفانہ ماحول میں رہ کر مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔

بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ان سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں مگر ان کا طریقہ کار غلط ہے، اور جہاں پی ٹی آئی کی حکومت تھی وہ ناکام ثابت ہوئی۔

نواز شریف سے ملاقات کے سوال پر بلاول نے بتایا کہ وہ کوٹ لکھپت گئے تھے، مگر باہر آتے ہی ایک جلسے میں ان پر سیاسی حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پیپلز پارٹی مفاہمت کیلئے قدم بڑھاتی ہے، بعض قوتیں حالات خراب کردیتی ہیں۔

وزارتِ عظمیٰ کے سوال پر بلاول نے کانوں کو ہاتھ لگا کر بات ٹال دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں گورنر کے اختیارات محدود ہیں لیکن سلیم حیدر اور وزیراعلیٰ پنجاب دونوں اچھا کام کر رہی ہیں۔