LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کے حکومتی فورسز کے تربیتی کیمپ پر تین میزائل حملے، 53 افراد جاں بحق جرمنی کا یہودی شخصیات کے قتل کی مبینہ سازش پر ایرانی سفیر سے سخت احتجاج ایلون مسک کا اگلے سال امریکہ کے ہر بچے کو سپیس ایکس کے حصص دینے کا اعلان جنگ کے اخراجات نے ایران کے دشمنوں کو مایوسی سے دوچار کر دیا: محمد مخبر نومنتخب سعودی سفیر کی جی ایچ کیو آمد: فیلڈ مارشل سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال ٹرمپ کی جانب سے روس پر مجوزہ پابندیاں ختم کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی قطر نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی، پاکستان سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے: محسن نقوی پاور اور گیس شعبوں کا مجموعی گردشی قرضہ 5306 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا شہباز شریف نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو وزیراعظم ہاؤس طلب کر لیا قطر کا جلد نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کے اعلان کا فیصلہ فضل الرحمان سیاسی مقاصد کیلئے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں: حنیف عباسی حملوں کا خطرہ، امریکا کا مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ پنجاب حکومت کا جاسوسی کے آلات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سینیٹ میں عائلی قوانین، نجی سکیورٹی گارڈز کے حقوق سمیت 9 بل پیش حیدرآباد کا 38 سالہ شخص ریبیز کے باعث انتقال کرگیا

پاکستان 2027 میں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس کی میزبانی کرے گا: احسن اقبال

Web Desk

29 September 2026

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور ترقی احسن اقبال نے 25ویں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون (CAREC) کانفرنس میں شرکت کی اور سے خطاب کیا۔ اس دورے کے دوران وفاقی وزیر نے کیریک کیپیٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ فورم اور آسیان کیپیٹل مارکیٹس فورم کے درمیان باضابطہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے، جس کا مقصد کیریک اور آسیان ممالک کے درمیان کیپیٹل مارکیٹس میں باہمی تعاون اور روابط کو فروغ دینا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے اعلان کیا کہ پاکستان سال 2027 میں کیریک کانفرنس کی چیئرمین شپ سنبھالنے اور 26ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کیریک کوریڈورز 5 اور 6 کے ذریعے خطے کے وسطی ایشیائی ممالک کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کا خواہاں ہے، اور اب سوال صرف ٹرکوں کے گزرنے کا نہیں بلکہ اس راستے کو کاروبار کے لیے انتہائی قابلِ اعتماد اور منافع بخش بنانے کا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ روایتی علاقائی راہداریوں کو اگلی نسل کے جدید اقتصادی کوریڈورز میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، ڈیجیٹل روابط، توانائی اور قدرتی آفات سے تحفظ کا ایک مربوط نظام بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ چین کو مکمل کرنے کے لیے سڑکوں، جدید سرحدی سہولیات، ریل فریٹ، ڈرائی پورٹس اور بندرگاہوں کو مؤثر انداز میں جوڑنا ہوگا، جبکہ تورخم اور چمن بارڈر پر جدید سرحدی سہولیات کی فراہمی علاقائی تجارت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

احسن اقبال نے تجویز دی کہ اسٹریٹجک مقامات پر لاجسٹکس اور پیداواری مراکز قائم کر کے ٹرانزٹ ٹریفک کو برآمدات اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جہاں کولڈ اسٹوریج، پیکیجنگ، گودام اور ہلکی صنعتیں مقامی معیشت کو سہارا دے سکتی ہیں۔ انہوں نے خطے میں کیریک ڈیجیٹل کوریڈور کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان سنگل ونڈو’ علاقائی تجارت کے ڈیجیٹل انضمام کی بہترین بنیاد بن سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کوریڈور کی اصل کامیابی تبھی ممکن ہے جب وہ محض سامان کی نقل و حمل کی بجائے سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع فراہم کرے اور مقامی آبادیوں کو بھی معاشی خوشحالی میں برابر کا حصہ دار بنائے۔