LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس میں ٹی یو 95 فوجی طیارہ گر کر تباہ، 6 اہلکار ہلاک پی اے ای سی اور او جی ڈی سی ایل کے درمیان لیتھیم منصوبے پر تعاون کا معاہدہ اسحاق ڈار کی کفایت شعاری اقدامات کے فیصلوں پر عملدرآمد کی ہدایت کیلیفورنیا میں اسلامی تہواروں پر تعطیلات کو سرکاری قرار دیدیا گیا وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ کا 4 روزہ دورہ مکمل کر کے وطن روانہ گورنر کے پی کا دہشتگردی کیخلاف مشترکہ کوششوں پر زور، صوبائی حکومت پر تنقید پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا لائحہ عمل تیار کرلیا وزیراعظم کا لندن سٹاک ایکسچینج کا دورہ، معیشت مضبوط بنانے کیلئے بہت محنت کی: خطاب پاکستان 2027 میں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس کی میزبانی کرے گا: احسن اقبال ایک ہفتے میں یوکرینی حملوں سے 41 شہری ہلاک، 274 زخمی ہوئے، روسی سفارت کار روس اور امریکا کے درمیان حل طلب معاملات پر رابطے جلد ہونگے: سرگئی لاوروف چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس اسکیم نفاذ کے ابتدائی مرحلے میں ہے، تمام تکنیکی مشکلات دور کر رہے ہیں: ایف بی آر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کی پیپلز پارٹی سیکریٹریٹ آمد، اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

ایک ہفتے میں یوکرینی حملوں سے 41 شہری ہلاک، 274 زخمی ہوئے، روسی سفارت کار

Web Desk

29 September 2026

روسی وزارت خارجہ کے سفیر برائے خصوصی امور روڈیون میروشنک نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روسی علاقوں پر ہونے والے یوکرینی افواج کے حملوں کے نتیجے میں 41 شہری جاں بحق جبکہ 274 زخمی ہو گئے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روڈیون میروشنک نے بتایا کہ کیف حکومت کے مبینہ جرائم کے شواہد اکٹھے کرنے والے روسی وزارت خارجہ کے خصوصی دفتر نے گزشتہ سات روز کے اعداد و شمار جمع کر کے ان کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی افواج کی شدید گولہ باری اور دیگر حملوں کی زد میں آ کر مجموعی طور پر 315 شہری متاثر ہوئے، جن میں سے 41 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 274 زخمی ہونے والوں میں نو کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

استعمال ہونے والے ہتھیار اور مغربی ممالک پر الزام:

روسی سفارت کار کے مطابق یوکرینی افواج نے گزشتہ سات دنوں کے دوران روسی سرزمین پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے لیے کم از کم 8,033 گولے اور مختلف ہتھیار داغے۔ ان حملوں میں 122 ملی میٹر کے ملٹی پل راکٹ لانچرز، 152 اور 155 ملی میٹر کے توپ خانے کے گولے، بارودی سرنگیں، دستی بم، کلسٹر وار ہیڈز سے لیس گولے، بڑی تعداد میں حملہ آور بغیر پائلٹ طیارے (UAVs)، FPV ڈرونز اور چھوٹے ہتھیار استعمال کیے گئے۔

روڈیون میروشنک نے کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شہری آبادی پر حملوں کے لیے یوکرینی افواج کے زیرِ استعمال ہتھیاروں کی بڑی اکثریت مغربی ممالک میں تیار کی گئی ہے اور انہی ممالک نے یہ مہلک ہتھیار یوکرین کو فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ یوکرین کو یہ عسکری سازوسامان فراہم کرنے والے مغربی ممالک بھی کیف حکومت کے ان اقدامات میں براہِ راست شریک ہیں۔