LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کے حکومتی فورسز کے تربیتی کیمپ پر تین میزائل حملے، 53 افراد جاں بحق جرمنی کا یہودی شخصیات کے قتل کی مبینہ سازش پر ایرانی سفیر سے سخت احتجاج ایلون مسک کا اگلے سال امریکہ کے ہر بچے کو سپیس ایکس کے حصص دینے کا اعلان جنگ کے اخراجات نے ایران کے دشمنوں کو مایوسی سے دوچار کر دیا: محمد مخبر نومنتخب سعودی سفیر کی جی ایچ کیو آمد: فیلڈ مارشل سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال ٹرمپ کی جانب سے روس پر مجوزہ پابندیاں ختم کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی قطر نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی، پاکستان سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے: محسن نقوی پاور اور گیس شعبوں کا مجموعی گردشی قرضہ 5306 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا شہباز شریف نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو وزیراعظم ہاؤس طلب کر لیا قطر کا جلد نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کے اعلان کا فیصلہ فضل الرحمان سیاسی مقاصد کیلئے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں: حنیف عباسی حملوں کا خطرہ، امریکا کا مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ پنجاب حکومت کا جاسوسی کے آلات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سینیٹ میں عائلی قوانین، نجی سکیورٹی گارڈز کے حقوق سمیت 9 بل پیش حیدرآباد کا 38 سالہ شخص ریبیز کے باعث انتقال کرگیا

ایک ہفتے میں یوکرینی حملوں سے 41 شہری ہلاک، 274 زخمی ہوئے، روسی سفارت کار

Web Desk

29 September 2026

روسی وزارت خارجہ کے سفیر برائے خصوصی امور روڈیون میروشنک نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روسی علاقوں پر ہونے والے یوکرینی افواج کے حملوں کے نتیجے میں 41 شہری جاں بحق جبکہ 274 زخمی ہو گئے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روڈیون میروشنک نے بتایا کہ کیف حکومت کے مبینہ جرائم کے شواہد اکٹھے کرنے والے روسی وزارت خارجہ کے خصوصی دفتر نے گزشتہ سات روز کے اعداد و شمار جمع کر کے ان کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی افواج کی شدید گولہ باری اور دیگر حملوں کی زد میں آ کر مجموعی طور پر 315 شہری متاثر ہوئے، جن میں سے 41 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 274 زخمی ہونے والوں میں نو کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

استعمال ہونے والے ہتھیار اور مغربی ممالک پر الزام:

روسی سفارت کار کے مطابق یوکرینی افواج نے گزشتہ سات دنوں کے دوران روسی سرزمین پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے لیے کم از کم 8,033 گولے اور مختلف ہتھیار داغے۔ ان حملوں میں 122 ملی میٹر کے ملٹی پل راکٹ لانچرز، 152 اور 155 ملی میٹر کے توپ خانے کے گولے، بارودی سرنگیں، دستی بم، کلسٹر وار ہیڈز سے لیس گولے، بڑی تعداد میں حملہ آور بغیر پائلٹ طیارے (UAVs)، FPV ڈرونز اور چھوٹے ہتھیار استعمال کیے گئے۔

روڈیون میروشنک نے کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شہری آبادی پر حملوں کے لیے یوکرینی افواج کے زیرِ استعمال ہتھیاروں کی بڑی اکثریت مغربی ممالک میں تیار کی گئی ہے اور انہی ممالک نے یہ مہلک ہتھیار یوکرین کو فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ یوکرین کو یہ عسکری سازوسامان فراہم کرنے والے مغربی ممالک بھی کیف حکومت کے ان اقدامات میں براہِ راست شریک ہیں۔