LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کچھ دیر پہلے ایران کی جانب معاہدے کیلئے رابطہ کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ کا ایران میں 90 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، بحرین اور کویت میں سائرن بج گئے ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام، حملہ کیا تو بھرپور جواب ملے گا: قالیباف وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی پر اظہار افسوس شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو آج مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا ایران نے حالیہ امریکی حملوں کیخلاف اقوام متحدہ کو احتجاجی خطوط ارسال کر دیے ران کا امریکی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران پر موجودہ حملے گزشتہ کارروائیوں سے زیادہ وسیع ہیں، امریکی عہدیدار امریکی حملوں کے بعد چاہ بہار فری زون سے گاڑیاں محفوظ مقامات پر منتقل وزیرِ داخلہ محسن نقوی اگلے ہفتے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کریں گے، امریکہ ایران امن مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز ایران کے ہر حملے کا جواب 20 گنا زیادہ طاقت سے دیں گے، ٹرمپ کی نئی دھمکی 4 ارب کی عدم ریکوری، خریداریوں میں ڈھائی ارب کی بےضابطگیاں، آڈٹ رپورٹ جاری اقوام متحدہ میں پاکستان کا جنسی تشدد کے خاتمے کیلیے عالمی اقدامات کا مطالبہ سابق افغان کرکٹر شاپور زدران کا جسدِ خاکی بھارت سے کابل پہنچ گیا، ساتھی کرکٹرز اشکبار

مالی سال 2026-27: قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 4715 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش

Web Desk

1 June 2026

سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4715 ارب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی سفارش کر دی ہے، جس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام، صوبائی ترقیاتی منصوبے اور سرکاری اداروں کی سرمایہ کاری شامل ہے۔

اعلامیے کے مطابق قومی ترقیاتی پروگرام میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1126 ارب روپے، صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3138 ارب روپے جبکہ سرکاری اداروں کی سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ دستیاب وسائل کا 98 فیصد سے زائد حصہ جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے مختص کیا جائے گا، جبکہ وسائل کی محدود دستیابی کے باعث نئے منصوبوں کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہوگی۔ پانی، توانائی، نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو اولین ترجیح دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق بڑے منصوبوں میں مرکزی ریلوے لائن منصوبہ، دیامر بھاشا ڈیم، داسو ڈیم اور مہمند ڈیم شامل ہیں۔ کمیٹی نے 80 فیصد سے زائد مکمل ہونے والے منصوبوں کو آئندہ مالی سال کے دوران مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کا مجموعی مالی بوجھ 10 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور موجودہ رفتار سے ان منصوبوں کی تکمیل میں تقریباً 10 سال لگ سکتے ہیں۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کو محفوظ رکھنے جبکہ بلوچستان، گوادر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو خصوصی ترجیح دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔