LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

پاکستان میں 60 دن کے اندر ادویات پر بارکوڈ متعارف کرایا جائے گا، مصطفیٰ کمال

Web Desk

27 June 2026

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک میں ادویات کے معیار کو یقینی بنانے اور جعلی ادویات کے تدارک کے لیے ایک بڑے تزویراتی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آئندہ 60 روز کے اندر ادویات پر جدید بارکوڈ سسٹم متعارف کرا دیا جائے گا، جس کے لیے وزارت صحت اور متعلقہ اداروں کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PPMA) کے اہم دورے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ فارما انڈسٹری کی ترقی کے لیے پاکستان میں 17 اور 18 جولائی کو ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پاک-چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں اب تک 150 مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے اپنی رجسٹریشن کروا لی ہے، جبکہ چین کی 100 سے زائد نامور فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس ایونٹ میں فعال شرکت کے لیے پاکستان آ رہی ہیں۔

سید مصطفیٰ کمال نے حکومت کی اقتصادی اور صنعتی ترجیحات کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے فارما سیکٹر میں بڑے پیمانے پر چینی سرمایہ کاری لانے کے لیے پرعزم ہیں؛ تاہم حکومت کی ترجیح پہلے دن سے یہ ہے کہ رسمی مفاہمت ناموں (MoUs) پر وقت ضائع کرنے کے بجائے براہِ راست ٹھوس کاروباری معاہدوں پر جایا جائے، جبکہ کانفرنس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ورچوئل میٹنگز کا سلسلہ کانفرنس کے آغاز سے پہلے ہی شروع ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ پیداواری صلاحیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی ضرورت کی 85 فیصد ادویات خود بناتا ہے، لیکن ان ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا 99 فیصد خام مال (API) ہمیں چین سمیت دیگر ممالک سے امپورٹ کرنا پڑتا ہے۔ خام مال کی یہ مکمل درآمد ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اس لیے امپورٹ بل کو کم کرنے کے لیے ہمیں یہ خام مال اب خود تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ وہ اس تاریخی کانفرنس سے قبل فارما انڈسٹری کو حکومت کے اہداف، مراعات اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کرنے کے لیے خود مینوفیکچررز کے پاس آئے ہیں تاکہ مقامی صنعت اس تزویراتی عمل کا ایک فعال حصہ بن سکے۔ ادویات کے معیار پر عوامی تحفظات کا کھل کر تذکرہ کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں یہ عام پرسیپشن (رائے عامہ) پائی جاتی ہے کہ سر درد کی جو دوا دبئی سے آتی ہے وہ فوری اثر کرتی ہے جبکہ مقامی پاکستانی دوا اثر نہیں کرتی؛ ہو سکتا ہے کہ یہ رائے سو فیصد درست نہ ہو لیکن یہ عوامی تاثر بہرحال موجود ہے جسے دور کرنا ہوگا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ دنیا بھر میں جعلی ادویات کی اسمگلنگ اور فروخت ایک اربوں ڈالر کی ہولناک انڈسٹری بن چکی ہے، اسی لیے پاکستان میں 60 دن کے اندر بارکوڈ سسٹم کا نفاذ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ ہر دوا کی مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کی ڈیجیٹل ٹریکنگ کی جا سکے اور شہریوں کو صرف معیاری و مستند ادویات کی فراہمی ممکن ہو۔