LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مال بردار جہاز پر فائرنگ، 11 ہزار ملاحوں کا انخلا روک دیا گیا وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے؛ ہلاکتیں 920 ہو گئیں، ملبے تلے زندگی کی تلاش جاری، ہسپتالوں میں شدید بحران نیویارک کرائے داروں کی بڑی جیت، سٹی بورڈ نے مئیر مامدانی کی ‘کرایہ منجمد کرنے’ کی تاریخی تجویز منظور کر لی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید

مچھر بھگانے والی ادویات سے متعلق حیران کن انکشاف!

Web Desk

3 June 2026

پیرس: مچھروں اور ان سے بچاؤ کی ادویات کے حوالے سے سائنسی دنیا میں ایک ایسا حیران کن اور سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس نے اب تک کے تمام پرانے طبی نظریات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک نئی جدید تحقیق کے مطابق، مچھر نہ صرف چیزوں کو سیکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بلکہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ مچھر بھگانے والی عام ادویات میں استعمال ہونے والے کیمیکل ’ڈیٹ‘ (DEET) کی خوشبو کو پسند کرنا بھی سیکھ سکتے ہیں۔

مشہورِ زمانہ سائنسی جریدے ‘جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیولوجی’ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ نے مچھروں کی ذہانت اور ان کے بدلتے ہوئے رویوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔واضح رہے کہ ‘ڈیٹ’، جسے اس کے پیچیدہ کیمیائی نام این-ڈائی ایتھائل میٹا ٹولوامائیڈ (N-diethyl-meta-toluamide) سے بھی جانا جاتا ہے، دنیا بھر میں مچھروں کے کاٹنے اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والا سب سے مقبول اور بنیادی جزو (Ingredient) ہے۔

حتیٰ کہ ‘یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی’ (UK Health Security Agency) مچھروں سے تحفظ اور ان کے خاتمے کے لیے 50 فیصد ‘ڈیٹ’ پر مشتمل ریپیلنٹس کو دنیا کے مؤثر ترین اور بہترین طریقوں میں شمار کرتی ہے۔فرانس کی مشہور ‘یونیورسٹی آف ٹورز’ سے تعلق رکھنے والے مہرِ مائیکرو بائیولوجی اور معروف محقق ‘کلاؤڈیو لزاری’ کی سربراہی میں یہ منفرد تحقیق انجام دی گئی۔

تحقیق کے دوران یہ چونکا دینے والی بات سامنے آئی کہ مچھروں کے دماغ کو ‘ڈیٹ’ کی بو سونگھنے اور انسانوں سے خون حاصل کرنے کے تجربے کو آپس میں جوڑنے کی باقاعدہ تربیت (Training) دی جا سکتی ہے۔ یعنی مچھر یہ سمجھ جاتے ہیں کہ جہاں یہ بو ہوگی، وہاں انہیں خون پینے کو ملے گا۔محقق کلاؤڈیو لزاری کے مطابق، ماضی میں دنیا بھر کے سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کا یہ پختہ خیال تھا کہ مچھر بھگانے والے لوشن یا اسپرے (Repellents) صرف اور صرف اپنی مخصوص کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے ہی مؤثر ہوتے ہیں۔ سائنس دان سمجھتے تھے کہ یا تو ان کیمیکلز کی تیز بو مچھروں کے لیے انتہائی ناگوار ہوتی ہے اور وہ اس سے دور بھاگتے ہیں۔یا پھر یہ کیمیکلز مچھروں کے سونگھنے کی حس کو متاثر کر کے انسانوں کو تلاش کرنے کی ان کی قدرتی صلاحیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔تاہم، موجودہ نئی تحقیق نے اس دہائیوں پرانے نظریے کو یکسر چیلنج کر دیا ہے۔کلاؤڈیو لازاری کا کہنا ہے کہ ٹرائلز کے نتائج سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مچھروں کا ردِعمل لکیر کا فقیر نہیں ہے، بلکہ ان کا رویہ ان کے ماضی کے تجربات اور سیکھنے کے عمل (Learning Process) کے ذریعے وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتا ہے۔طبی و سائنسی ماہرین کا ماننا ہے کہ مچھروں کے حوالے سے ہونے والی یہ نئی دریافت مستقبل میں مچھر بھگانے والے ریپیلنٹس کی تیاری اور ان کے بارے میں ہماری سائنسی سمجھ بوجھ میں ایک بہت بڑی اور انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔