مچھر بھگانے والی ادویات سے متعلق حیران کن انکشاف!
Web Desk
3 June 2026
پیرس: مچھروں اور ان سے بچاؤ کی ادویات کے حوالے سے سائنسی دنیا میں ایک ایسا حیران کن اور سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس نے اب تک کے تمام پرانے طبی نظریات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک نئی جدید تحقیق کے مطابق، مچھر نہ صرف چیزوں کو سیکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بلکہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ مچھر بھگانے والی عام ادویات میں استعمال ہونے والے کیمیکل ’ڈیٹ‘ (DEET) کی خوشبو کو پسند کرنا بھی سیکھ سکتے ہیں۔
مشہورِ زمانہ سائنسی جریدے ‘جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیولوجی’ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ نے مچھروں کی ذہانت اور ان کے بدلتے ہوئے رویوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔واضح رہے کہ ‘ڈیٹ’، جسے اس کے پیچیدہ کیمیائی نام این-ڈائی ایتھائل میٹا ٹولوامائیڈ (N-diethyl-meta-toluamide) سے بھی جانا جاتا ہے، دنیا بھر میں مچھروں کے کاٹنے اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والا سب سے مقبول اور بنیادی جزو (Ingredient) ہے۔
حتیٰ کہ ‘یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی’ (UK Health Security Agency) مچھروں سے تحفظ اور ان کے خاتمے کے لیے 50 فیصد ‘ڈیٹ’ پر مشتمل ریپیلنٹس کو دنیا کے مؤثر ترین اور بہترین طریقوں میں شمار کرتی ہے۔فرانس کی مشہور ‘یونیورسٹی آف ٹورز’ سے تعلق رکھنے والے مہرِ مائیکرو بائیولوجی اور معروف محقق ‘کلاؤڈیو لزاری’ کی سربراہی میں یہ منفرد تحقیق انجام دی گئی۔
تحقیق کے دوران یہ چونکا دینے والی بات سامنے آئی کہ مچھروں کے دماغ کو ‘ڈیٹ’ کی بو سونگھنے اور انسانوں سے خون حاصل کرنے کے تجربے کو آپس میں جوڑنے کی باقاعدہ تربیت (Training) دی جا سکتی ہے۔ یعنی مچھر یہ سمجھ جاتے ہیں کہ جہاں یہ بو ہوگی، وہاں انہیں خون پینے کو ملے گا۔محقق کلاؤڈیو لزاری کے مطابق، ماضی میں دنیا بھر کے سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کا یہ پختہ خیال تھا کہ مچھر بھگانے والے لوشن یا اسپرے (Repellents) صرف اور صرف اپنی مخصوص کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے ہی مؤثر ہوتے ہیں۔ سائنس دان سمجھتے تھے کہ یا تو ان کیمیکلز کی تیز بو مچھروں کے لیے انتہائی ناگوار ہوتی ہے اور وہ اس سے دور بھاگتے ہیں۔یا پھر یہ کیمیکلز مچھروں کے سونگھنے کی حس کو متاثر کر کے انسانوں کو تلاش کرنے کی ان کی قدرتی صلاحیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔تاہم، موجودہ نئی تحقیق نے اس دہائیوں پرانے نظریے کو یکسر چیلنج کر دیا ہے۔کلاؤڈیو لازاری کا کہنا ہے کہ ٹرائلز کے نتائج سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مچھروں کا ردِعمل لکیر کا فقیر نہیں ہے، بلکہ ان کا رویہ ان کے ماضی کے تجربات اور سیکھنے کے عمل (Learning Process) کے ذریعے وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتا ہے۔طبی و سائنسی ماہرین کا ماننا ہے کہ مچھروں کے حوالے سے ہونے والی یہ نئی دریافت مستقبل میں مچھر بھگانے والے ریپیلنٹس کی تیاری اور ان کے بارے میں ہماری سائنسی سمجھ بوجھ میں ایک بہت بڑی اور انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔
متعلقہ عنوانات
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
3 June 2026
گوگل میپس میں ایک نئے دلچسپ فیچر کا اضافہ
3 June 2026
عمر کے تعین کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی متعارف
2 June 2026
سروسز کا باقاعدہ آغاز: 22 شہروں میں نیٹ ورک فعال، آئی فون 17 اور نئے ماڈلز پر بھی سروس شروع، پی ٹی اے حکام
2 June 2026
ملائیشیا: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پر اکائونٹ بنانے پر پابندی
2 June 2026
یوٹیوب ہوم فیڈ کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دینا ممکن ہوگیا
2 June 2026
میٹا کا اپنے ملازمین کی مانیٹرنگ کیلئے کمپیوٹر میں نگران سافٹ ویئر انسٹال، وجہ بھی بتا دی
1 June 2026
31 مئی کو طلوع ہونے والا بلیو مائیکرو مون کیاتھا؟
1 June 2026