LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مال بردار جہاز پر فائرنگ، 11 ہزار ملاحوں کا انخلا روک دیا گیا وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے؛ ہلاکتیں 920 ہو گئیں، ملبے تلے زندگی کی تلاش جاری، ہسپتالوں میں شدید بحران نیویارک کرائے داروں کی بڑی جیت، سٹی بورڈ نے مئیر مامدانی کی ‘کرایہ منجمد کرنے’ کی تاریخی تجویز منظور کر لی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید

ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا

Web Desk

27 June 2026

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایران کی ساحلی تنصیبات پر ہونے والے حالیہ امریکی فضائی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں دونوں ممالک کے درمیان نافذ العمل جنگ بندی کے معاہدے کی ایک ’’لاپروا اور سنگین خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک سرکاری بیان میں ابراہیم عزیزی نے امریکی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان یکطرفہ حملوں کے ذریعے ایک بار پھر دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو سفارتی مذاکرات کے بنیادی اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی ان کی انتظامیہ جنگ بندی کے کسی طے شدہ معاہدے کا احترام کرنا جانتی ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے اپنے تند و تیز بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کی خود مختاری پر امریکی حملہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز عسکری اقدام ہے، جس کا انجام ماضی کی طرح ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امریکہ کے لیے شدید تزویراتی پسپائی، ہزیمت اور پشیمانی کی صورت میں ہی نکلے گا۔ امریکی سینٹ کام کی جانب سے تجارتی جہاز پر حملے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ابراہیم عزیزی نے مزید واضح کیا کہ واشنگٹن کا اپنی جارحیت کو چھپانے کے لیے ایران پر من گھڑت الزامات لگانا اور الزام تراشی کا کھیل (Blame Game) کھیلنا اب مزید نہیں چلے گا، اور ایران اپنی قومی سلامتی اور ساحلی حدود کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔