LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج مدمقابل ہونگی دوبارہ فوجی ایکشن سے سفارتکاری کا وقت آگیا، دباؤ بڑھا کر امریکا رعایتیں حاصل نہیں کر سکتا: ایران ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اہم ترین محاذ بن گیا: میڈیا رپورٹ

ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا

Web Desk

27 June 2026

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایران کی ساحلی تنصیبات پر ہونے والے حالیہ امریکی فضائی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں دونوں ممالک کے درمیان نافذ العمل جنگ بندی کے معاہدے کی ایک ’’لاپروا اور سنگین خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک سرکاری بیان میں ابراہیم عزیزی نے امریکی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان یکطرفہ حملوں کے ذریعے ایک بار پھر دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو سفارتی مذاکرات کے بنیادی اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی ان کی انتظامیہ جنگ بندی کے کسی طے شدہ معاہدے کا احترام کرنا جانتی ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے اپنے تند و تیز بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کی خود مختاری پر امریکی حملہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز عسکری اقدام ہے، جس کا انجام ماضی کی طرح ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امریکہ کے لیے شدید تزویراتی پسپائی، ہزیمت اور پشیمانی کی صورت میں ہی نکلے گا۔ امریکی سینٹ کام کی جانب سے تجارتی جہاز پر حملے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ابراہیم عزیزی نے مزید واضح کیا کہ واشنگٹن کا اپنی جارحیت کو چھپانے کے لیے ایران پر من گھڑت الزامات لگانا اور الزام تراشی کا کھیل (Blame Game) کھیلنا اب مزید نہیں چلے گا، اور ایران اپنی قومی سلامتی اور ساحلی حدود کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔