ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا
Web Desk
27 June 2026
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایران کی ساحلی تنصیبات پر ہونے والے حالیہ امریکی فضائی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں دونوں ممالک کے درمیان نافذ العمل جنگ بندی کے معاہدے کی ایک ’’لاپروا اور سنگین خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک سرکاری بیان میں ابراہیم عزیزی نے امریکی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان یکطرفہ حملوں کے ذریعے ایک بار پھر دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو سفارتی مذاکرات کے بنیادی اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی ان کی انتظامیہ جنگ بندی کے کسی طے شدہ معاہدے کا احترام کرنا جانتی ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے اپنے تند و تیز بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کی خود مختاری پر امریکی حملہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز عسکری اقدام ہے، جس کا انجام ماضی کی طرح ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امریکہ کے لیے شدید تزویراتی پسپائی، ہزیمت اور پشیمانی کی صورت میں ہی نکلے گا۔ امریکی سینٹ کام کی جانب سے تجارتی جہاز پر حملے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ابراہیم عزیزی نے مزید واضح کیا کہ واشنگٹن کا اپنی جارحیت کو چھپانے کے لیے ایران پر من گھڑت الزامات لگانا اور الزام تراشی کا کھیل (Blame Game) کھیلنا اب مزید نہیں چلے گا، اور ایران اپنی قومی سلامتی اور ساحلی حدود کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ
19 August 2026
بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر
19 August 2026
ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ
19 August 2026
محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم
19 August 2026
اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
19 August 2026
پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان
19 August 2026
جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ
19 August 2026
بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری
19 August 2026