LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی 18 سال سے کم عمر کی شادی کیخلاف قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج سکیورٹی فورسز کی خاران اور مستونگ میں کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ

امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب

Web Desk

27 June 2026

نیویارک سے برائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ایک امریکی جج نے محکمہ انصاف (DOJ) کو باقاعدہ حکم دیا ہے کہ وہ بھارتی ارب پتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کے خلاف قائم فوجداری مقدمات کو اچانک ختم کرنے کے اپنے فیصلے کا تزویراتی جواز پیش کرے۔ بروکلین کے امریکی ڈسٹرکٹ جج نکولس گراؤفس نے گوتم اڈانی کے وکلاء کی جانب سے کیس کو فوری طور پر خارج (Dismiss) کرنے کی درخواست پر فوری فیصلہ دینے سے انکار کر دیا۔ معزز جج کا کہنا تھا کہ وفاقی استغاثہ (پراسیکیوٹرز) نے 18 مئی کو اپنے ایک غیر متوقع اعلان میں سیکیورٹیز فراڈ اور وائر فراڈ جیسے سنگین الزامات پر مبنی مقدمے کو مزید آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا، جو کہ ایک مبینہ رشوت ستانی کی اسکیم سے جڑا ہوا تھا، لیکن پراسیکیوٹرز نے اس وقت اس مقدمے کو بند کرنے کی کوئی ٹھوس یا کافی وجہ یا وضاحت بیان نہیں کی تھی۔

قانونی ماہرین کے مطابق، امریکی ججوں کے پاس ایسے فوجداری مقدمات کو جاری رکھنے کے لیے پراسیکیوٹرز کو مجبور کرنے کے انتہائی محدود اختیارات یا صوابدید ہوتی ہے جنہیں خود استغاثہ مزید چلانا نہیں چاہتا، تاہم تکنیکی طور پر یہ الزامات اس وقت تک باقاعدہ زیرِ التوا (Pending) رہیں گے جب تک جج نکولس گراؤفس انہیں باضابطہ طور پر خارج کرنے کا حتمی حکم جاری نہیں کر دیتے۔ اس حساس معاملے پر کارروائی کرنے والے بروکلین یو ایس اٹارنی آفس کے ترجمان نے فی الحال کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے مکمل معذرت کر لی ہے۔

دوسری جانب، گوتم اڈانی کی ملکیتی کمپنی ‘اڈانی گروپ’ نے ہمیشہ کی طرح ان تمام الزامات اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے، جبکہ خود گوتم اڈانی تاحال ان الزامات کا سامنا کرنے کے لیے کسی بھی امریکی عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے ہیں۔ گوتم اڈانی کے وکیل رابرٹ جیوفرا نے بدھ کے روز جج گراؤفس کو لکھے گئے ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے مضبوطی سے یہ تزویراتی دلیل دی ہے کہ یہ پورا کیس فوری طور پر خارج ہونا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ امریکی قوانین کے دائرہ اختیار (Jurisdiction) سے بالکل باہر ہے اور امریکی استغاثہ کے لیے بھارت کی حدود میں مبینہ رشوت ستانی کے ان الزامات کو عدالت میں سائنسی یا قانونی طور پر ثابت کرنا ناممکن ہو گا۔