وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ رپورٹ جاری، معاشی استحکام برقرار مگر چیلنجز موجود
Web Desk
27 January 2026
وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران مجموعی طور پر معاشی استحکام برقرار رہا۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال 2025-26 میں ملکی معیشت کی رفتار برقرار رہنے کی توقع ہے جسے بہتر مالی نظم و ضبط نے سہارا دیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ دسمبر میں مہنگائی 5.6 فیصد اور نومبر میں 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی قابو میں ہے اور بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) کی نمو میں واضح بہتری آئی ہے، آئندہ مہینوں میں مزید بہتری کی امید ہے۔
رپورٹ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہیں، روپے کی قدر نسبتاً مستحکم رہی اور مالی نظم و ضبط کے باعث مالی اور پرائمری سرپلس حاصل ہوا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی جو عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں شامل رہی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی ہوئی اور اس کا حجم صرف 810 ملین ڈالر رہا۔ اسی دوران برآمدات میں 5 فیصد کمی سے حجم 15.5 ارب ڈالر تک محدود رہا جبکہ درآمدات 12.3 فیصد اضافے کے ساتھ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
چھ ماہ میں ترسیلات زر 10.6 فیصد اضافے سے 19.73 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.17 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال میں ڈالر کی قیمت میں 1.2 روپے اضافہ ہوا اور شرح تبادلہ 278.7 سے بڑھ کر 279.9 روپے تک پہنچ گئی۔
وزارت خزانہ کے مطابق پہلے پانچ ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6 فیصد اضافہ ہوا، پرائمری سرپلس 3651 ارب روپے جبکہ فسکل بیلنس 981 ارب روپے مثبت رہا۔ ایف بی آر ریونیو 9.5 فیصد اضافے سے 6160 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ریونیو 4.8 فیصد اضافے سے 3581 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر بڑھ کر 16.1 ارب ڈالر ہو گئے جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس ذخائر کی مالیت 5.2 ارب ڈالر رہی۔ وزارت خزانہ کے مطابق معاشی گورننس اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں جن کا مقصد ادارہ جاتی استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
متعلقہ عنوانات
پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری
26 August 2026
ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے
26 August 2026
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال
26 August 2026
اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات
26 August 2026
پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت
26 August 2026
پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری
26 August 2026
سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور
26 August 2026
سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز
26 August 2026