ملائیشیا: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پر اکائونٹ بنانے پر پابندی
Web Desk
2 June 2026
کوالالمپور: دنیا بھر میں بچوں کی فلاح و بہبود پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے پیشِ نظر، ملائیشیا نے بھی نوجوان نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ملائیشیا نے ملک میں نئے آن لائن سیفٹی قواعد نافذ کرتے ہوئے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے صارفین کی عمر کی تصدیق لازمی قرار دے دی ہے اور 16 سال سے کم عمر بچوں کو اکاؤنٹ بنانے سے روک دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ سخت قواعد ان تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوں گے جن کے اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں کم از کم 80 لاکھ (8 ملین) صارفین موجود ہیں، جن میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسی بڑی ایپس شامل ہیں۔ تاہم، ملائیشین کمیونی کیشنز ریگولیٹر کے مطابق ان نئے اقدامات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ان کمپنیوں کو کچھ مہلت بھی دی جائے گی، جس کی قطعی مدت ابھی واضح نہیں کی گئی ہے۔
ملائیشین کمیونی کیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (MCMC) کی جانب سے جاری کردہ ایک دستاویز کے مطابق، اب ان تمام پلیٹ فارمز کے لیے درج ذیل امور پر عمل کرنا قانونی طور پر لازم ہوگا:
-
سرکاری ریکارڈ سے تصدیق: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی حقیقی عمر معلوم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے، جس میں قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ جیسے مستند سرکاری ریکارڈ کے ذریعے تصدیق کا عمل شامل ہے۔
-
ایک کروڑ رنگٹ جرمانہ: ایم سی ایم سی (MCMC) نے خبردار کیا ہے کہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی یا بچوں کو اکاؤنٹس بنانے کی اجازت دینے والی کمپنیوں پر ایک کروڑ ملائیشین رنگٹ (تقریباً 25 لاکھ امریکی ڈالر) تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
نوجوانوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کی اس عالمی دوڑ میں ملائیشیا اکیلا نہیں ہے، بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک بھی ایسے قوانین لاگو کر رہے ہیں:
-
آسٹریلیا: گزشتہ سال دسمبر میں آسٹریلیا ایسا قانون نافذ کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا، جس نے ٹک ٹاک، یوٹیوب اور سنیپ چیٹ سمیت دیگر بڑی ویب سائٹس کو 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس ختم کرنے یا بھاری جرمانے دینے کا پابند کیا۔
-
انڈونیشیا: انڈونیشیا نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسی سال مارچ میں 16 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔
-
یورپی ممالک: انڈونیشیا کے علاوہ ترکی، ناروے، یونان، فرانس، سپین اور ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک نے بھی اپنے ہاں ایسی ہی پابندیاں متعارف کرانے کا باقاعدہ اعلان کر رکھا ہے۔
دوسری جانب، ان سخت ترین پابندیوں پر انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ میں قائم آزادیٔ اظہار کی معروف تنظیم ‘آرٹیکل 19’ اور دیگر گروپوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا اور معلومات تک رسائی سے بالکل محروم نہیں کیا جانا چاہئے، بلکہ انہیں محفوظ انداز میں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ یہ رسائی ملنی چاہئے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی مجوزہ مکمل پابندی ان کمپنیوں کے کاروباری ماڈلز اور الگورتھم کے بنیادی مسائل کو حل نہیں کرتی، بلکہ اس سے بچوں کے سیکھنے کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026