LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی قیمتی پتھروں کیلئے برانڈ پاکستان متعارف کروانے کی ہدایت آئینی عدالت: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابل سماعت قرار کے پی حکومت سیکیورٹی چیلنجز پر چڑھائی کو ترجیح دیتی رہی، قیدی رہنما کا ریلیف عدالتوں کا اختیار ہے: اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا کا فیصلہ واپس لے کر ایوان کو مضبوط بنایا جائے، یہ حکومت بندوق اور پیسے کے زور پر قائم ہے: اپوزیشن لیڈر حکومت نے مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی لیکن تحریک انصاف نے سیاسی خود کش حملہ کیا: بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کیلئے قرارداد پیش محسن نقوی سے روسی ہم منصب کی ملاقات، وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے باعث پاکستانی پروازیں متاثر، 114 منسوخ وزیر اعلیٰ پنجاب نے لائیو سٹاک کارڈ فیز 2 کا افتتاح کر دیا وفاقی آئینی عدالت: بشریٰ بی بی سزا معطلی کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ ایران پر زمینی حملہ امریکی فوج کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا: مشیر اعلیٰ کمانڈر انچیف پاسداران انقلاب پاکستان کو اکتوبر میں پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس بحران کا خدشہ کوئٹہ کے بلوچ ٹریننگ ونگ میں بیسک ملٹری ٹریننگ 22 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ایگزیوس کا ایران کیخلاف فوجی آپریشن پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں بات چیت کا دعویٰ وزیراعظم سے مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کی ملاقات، علاقائی سلامتی پر گفتگو

شہباز شریف کی بریت کیخلاف درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

Web Desk

8 April 2026

لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر کی منی لانڈرنگ کیس میں بریت کے خلاف دائر درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے درخواست گزار وشال شاکر کی جانب سے دائر اپیل کو خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایک نجی شخص کو اس کیس میں بریت چیلنج کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ فیصلے کے مطابق، قانون کے تحت بریت کو چیلنج کرنے کا اختیار صرف وفاقی حکومت یا پبلک پراسیکیوٹر کے پاس ہوتا ہے، جبکہ درخواست گزار اس کیس میں “متاثرہ فریق” کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی کہ بریت کے فیصلے کو تین سال چار ماہ کی طویل تاخیر کے بعد چیلنج کیا گیا، جس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا گیا۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے شہباز شریف کے خلاف ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی پر بریت کی درخواست منظور کی تھی، اور قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ فیصلے میں مزید واضح کیا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے دستیاب ریکارڈ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد قانونی اختیار استعمال کیا، اور چونکہ درخواست گزار کے وکیل بریت کے فیصلے میں کسی غیر قانونی پہلو کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے، اس لیے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو درست قرار دیتے ہوئے درخواست کو مکمل طور پر خارج کر دیا۔