پنجاب بھر میں لاپتہ تمام خواتین کو پندرہ روز میں بازیاب کروانے کی مہلت
Web Desk
1 June 2026
لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے پنجاب بھر میں لاپتہ ہونے والی بچیوں اور خواتین کی عدم بازیابی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو صوبے بھر سے تمام لاپتہ خواتین کو آئندہ 15 روز کے اندر بازیاب کروا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے لاہور ہائیکورٹ میں شہری سلمیٰ بی بی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، جنہوں نے اپنی بیٹی مقدس بی بی کی گزشتہ چار سال سے مبینہ گمشدگی اور بازیابی کے لیے عدالتِ عالیہ سے رجوع کر رکھا ہے۔ ہائیکورٹ کے حکم پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب شعیب خرم عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور صوبے میں لاپتہ خواتین سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کروائی
دورانِ سماعت عدالت کے سامنے پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق:
-
مجموعی مقدمات: سال 2021 سے لے کر اپریل 2026 تک صوبہ بھر میں خواتین اور بچیوں کے لاپتہ ہونے کے مجموعی طور پر 3 ہزار 252 مقدمات درج کیے گئے۔
-
بازیاب شدہ خواتین: درج مقدمات میں سے اب تک صرف 1 ہزار 405 خواتین کو بازیاب کروایا جا سکا ہے۔
-
تاکیدِ بازیابی: صوبے میں اب بھی 1 ہزار 853 خواتین تاحال لاپتہ ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
سماعت کے دوران جب چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ باقی رہ جانے والی 1853 لاپتہ خواتین کی بازیابی کے لیے پولیس کو کتنا وقت درکار ہوگا؟ تو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شعیب خرم نے عدالت سے دو ماہ کی مہلت طلب کی۔
ڈی آئی جی کی اس استدعا پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے:
“چھ سال پہلے آپ کے پاس وقت تھا، کیا وہ کم تھا؟ یہ سیدھا سیدھا پولیس ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔”
عدالت نے بازیاب کروائی گئی بچیوں کے تحفظ اور موجودہ صورتحال کے بارے میں بھی پوچھا، جس پر ڈی آئی جی نے موقف اپنایا کہ تمام بچیاں محفوظ ہیں؛ ان میں سے بعض نے پسند کی شادیاں کر لی ہیں جبکہ کچھ اپنے گھروں کو جا چکی ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، تقریباً 80 فیصد لاپتہ خواتین نے اپنی پسند سے شادیاں کی ہیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کے اس جواب پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو خواتین تاحال لاپتہ ہیں، ان کے حالات کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں اور یہ ایک نہایت سنگین اور حساس معاملہ ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا لاپتہ خواتین کے کیسز کے لیے کوئی مؤثر ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نظام (Data Mechanism) موجود ہے یا نہیں؟ جس پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ ٹیمیں اس حوالے سے ڈیٹا جمع کر رہی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ پنجاب پولیس کے تمام اعلیٰ افسران کو لاپتہ خواتین کی فوری اور مؤثر بازیابی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر احکامات جاری کیے جائیں۔ چیف جسٹس نے سخت ہدایت کی کہ ایسے کیسز کی مانیٹرنگ کے لیے ایک باقاعدہ، جدید اور مؤثر میکنزم تشکیل دیا جائے تاکہ تفتیش کو سائنسی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھا کر مغویوں کی جلد از جلد گھروں کو واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
ایران، امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا
13 July 2026
ایران کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سنبھالنے کے بیان پر ردعمل
13 July 2026
اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی امیدوار کی ملاقات
13 July 2026
موسلادھار بارشوں کا خدشہ، بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری
13 July 2026
نواز شریف دورہ قطر سے واپسی پر چھانگلہ گلی پہنچ گئے
13 July 2026
تربیلا ڈیم سے اضافی پانی چھوڑنے کا امکان، پی ڈی ایم اے کا الرٹ
13 July 2026
برطانیہ نےایرانی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا
13 July 2026
پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی قائم
13 July 2026