LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ اسحاق ڈار کا عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری

لاہور میں 18 سال بعد بسنت کی واپسی، مارکیٹس میں اربوں روپے کی معاشی سرگرمی

Web Desk

3 February 2026

لاہور میں اٹھارہ سال بعد بسنت کی اجازت ملنے کے بعد شہر بھر میں زبردست معاشی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ پتنگوں اور ڈور کی فروخت میں نمایاں اضافے کے باعث مارکیٹس میں رش بڑھ گیا ہے اور کاروباری حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق صرف دو روز کے دوران 32 کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موچی گیٹ، اسلام پورہ، سمن آباد، اچھرہ اور دیگر تجارتی علاقوں میں خریداری کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کے تین روزہ جشن سے لاہور کو مجموعی طور پر تقریباً 20 ارب روپے تک کا اقتصادی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے، جس میں ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، خوراک، سیاحت اور شاپنگ جیسے شعبے شامل ہیں۔

شہریوں کے مطابق بسنت کی واپسی سے ہزاروں چھوٹے کاروبار، مینوفیکچررز اور ریٹیلرز دوبارہ فعال ہو گئے ہیں، جبکہ متعدد سیلنگ پوائنٹس اور رجسٹرڈ ٹریڈرز نے بھی اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔