LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے نجی شعبے کو بھی آگے آنا ہوگا: ہارون اختر خان معروف کوہ پیما سید علی شاہ کی میت 31 دن بعد فلک سیر کی چوٹی سے تلاش کرلی گئی آر ایل این جی کی عدم دستیابی سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی: پاور ڈویژن پاکستان کو دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت اور جی 20 کا حصہ بنانا ہدف ہے: اسحاق ڈار پمز میں 14 بچوں کی ہلاکت ہمارے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے: مصدق ملک کسی نے ہمیں دھرنے سے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ اپنا شوق پورا کرلے: حافظ نعیم علی پرویز ملک کی او آئی سی سی آئی اور پی ایس او قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں عوام کو جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے منسلک کرنا ترجیح ہے: شزا فاطمہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن سسٹم ڈاؤن ہونے پر فوری ہدایت پاکستان چین دوستی کو ڈیٹا، ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل کرنا چاہتے ہیں: مریم نواز سہیل آفریدی کی آیت نور کے گھر آمد، ملزمان کو کڑی سزا دینے کی یقین دہانی نیپال و تبت میں سیلاب سے ہلاکتیں 626 ہو گئیں، 2000 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ڈی آئی جی ساؤتھ کا ڈیفنس میں خواتین کے جھگڑے کی وائرل ویڈیو پر انکوائری کا فیصلہ امریکی پابندیوں کے تسلسل سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے: ایرانی صدر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا

لاہور میں 18 سال بعد بسنت کی واپسی، مارکیٹس میں اربوں روپے کی معاشی سرگرمی

Web Desk

3 February 2026

لاہور میں اٹھارہ سال بعد بسنت کی اجازت ملنے کے بعد شہر بھر میں زبردست معاشی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ پتنگوں اور ڈور کی فروخت میں نمایاں اضافے کے باعث مارکیٹس میں رش بڑھ گیا ہے اور کاروباری حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق صرف دو روز کے دوران 32 کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موچی گیٹ، اسلام پورہ، سمن آباد، اچھرہ اور دیگر تجارتی علاقوں میں خریداری کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کے تین روزہ جشن سے لاہور کو مجموعی طور پر تقریباً 20 ارب روپے تک کا اقتصادی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے، جس میں ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، خوراک، سیاحت اور شاپنگ جیسے شعبے شامل ہیں۔

شہریوں کے مطابق بسنت کی واپسی سے ہزاروں چھوٹے کاروبار، مینوفیکچررز اور ریٹیلرز دوبارہ فعال ہو گئے ہیں، جبکہ متعدد سیلنگ پوائنٹس اور رجسٹرڈ ٹریڈرز نے بھی اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔