گندم اور گیس کی ترسیل پر زیادتی ہو رہی ہے: گورنر، وزیراعلیٰ کے پی
Web Desk
18 May 2026
خیبر پختونخوا میں گندم کی ترسیل میں رکاوٹوں اور سی این جی سیکٹر کے لیے گیس کی بندش پر صوبے کی تاریخ کی ایک منفرد اور اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صوبے کی حکمران جماعت، وفاق کی نمائندہ قیادت اور اپوزیشن نے سیاسی اختلافات پسِ پشت ڈال کر مشترکہ محاذ قائم کر لیا ہے۔ گورنر، وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر نے ایک ہنگامی مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاق اور پنجاب حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ صوبے کے ساتھ جاری معاشی و آئینی زیادتیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کے پی کے سنگین معاملات میں اپنی روایتی ‘شہباز سپیڈ’ نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ آئین کے دائرے میں بات کرتے ہیں اور آئین کے تحت ہی مطالبہ ہے کہ گندم کی کمی پوری کرنے کے لیے صوبے کو سپلائی یقینی بنائی جائے، کیونکہ اگر عوام کو روٹی مہنگی ملی تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ گورنر نے وفاق کو یاد دلایا کہ بجلی، گیس اور پانی ہم پیدا کر رہے ہیں، لیکن پانی کا ہمارا اپنا شیئر ہمیں نہیں دیا جا رہا۔ اگر ہمیں ہمارے حصے کا پانی مل جائے تو ہمیں گندم کے لیے کسی دوسرے صوبے کے محتاج ہونے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبے کے ساتھ زیادتی ہوئی تو وہ وفاق کے نمائندے ہونے کے باوجود اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کے پی کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے۔ انہوں نے پنجاب حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب مسلسل آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور خیبر پختونخوا کے لیے گندم کی ترسیل روک رہا ہے، جبکہ آئین کا آرٹیکل 151 واضح کہتا ہے کہ کوئی بھی صوبہ دوسرے صوبے کے لیے خوراک کی ترسیل پر پابندی نہیں لگا سکتا۔ وفاق کو بتانے کے باوجود پنجاب کو روکا نہیں جا رہا۔ گیس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے پی سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے اور آئین کے مطابق پہلا حق ہمارا ہے، مگر یہاں لاک ڈاؤن نافذ کر کے سی این جی بند کر دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ وفاق کی ان ناکام پالیسیوں سے صوبے کا امن و امان خراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے انتہائی سخت الفاظ میں وارننگ دی کہ پورے پاکستان کو آئین کی کتاب نے جوڑا ہوا ہے، اگر آئین کو نہیں مانا جاتا تو پھر ‘آپ اپنا کریں اور ہم اپنا کریں گے’، لہذا صوبے کو اس نہج پر نہ دھکیلا جائے۔ اس موقع پر صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے صوبائی حکومت اور گورنر کے مؤقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ گندم اور سی این جی کے اس اہم ترین مسئلے پر اپوزیشن جماعتیں سیاست کو پیچھے اور صوبے کے مفاد کو آگے رکھ رہی ہیں۔ انہوں نے مشترکہ بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فورم پر خیبر پختونخوا کے حقوق کے لیے سب کی آواز ایک ہے۔ انہوں نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘گورنر صاحب، آپ وفاق کے نمائندے ہیں، اب آپ ذرا سپیڈ پکڑیں، اس صوبائی حق کی جنگ میں پوری اپوزیشن آپ کے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے’۔
متعلقہ عنوانات
اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک
18 May 2026
ڈیڈ لائن ختم؛ اپوزیشن قیادت نے سر جوڑ لیے
18 May 2026
اپنے بچوں کو چائنیز پڑھائیں تا کہ وہ بڑے ہو کر چائنہ پڑھنے جا سکیں،خالد مقبول صدیقی
18 May 2026
پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران
18 May 2026
وزیرِ اعظم سے نیول چیف کی ملاقات، پاک بحریہ کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال
18 May 2026
حافظ نعیم الرحمان کا پٹرولیم لیوی کیخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع
18 May 2026
آڈیو لیک کیس؛ علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد
18 May 2026
سی این جی بندش: وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کیلئے خط
18 May 2026