LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان وزیراعظم کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت فلپائن: تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 41 ہو گئی، ہزاروں افراد بے گھر امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں: ابراہیم عزیزی پنجاب حکومت کا پاسکو سے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنانی آرمی چیف کی ملاقات، عسکری تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق ٹرمپ کی ایک لاکھ ڈالر H-1B ویزا فیس غیر قانونی ہے، امریکی جج کا فیصلہ اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے، مزید 5 افراد شہید، کئی زخمی پاکستان نے افغانستان سے دہشتگردوں کے حملے عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیئے ایران کے خلاف کشیدگی بڑھائی تو اسرائیل خود کو تنہا پائے گا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو پیغام گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی 10، آزاد امیدوار 7 اور ن لیگ 4 نشستوں پر کامیاب گلگت بلتستان میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے حکومت سازی کا امکان، پاور شیئرنگ فارمولا طے نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاع کیلئے 2665 ارب روپے رکھنے کی تجویز

اپنے بچوں کو چائنیز پڑھائیں تا کہ وہ بڑے ہو کر چائنہ پڑھنے جا سکیں،خالد مقبول صدیقی

Web Desk

18 May 2026

وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت چین کے مختلف تعلیمی اداروں میں ریکارڈ 40 ہزار پاکستانی طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے والدین اور تعلیمی ماہرین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو چائنیز زبان پڑھائیں تاکہ مستقبل میں انہیں چین جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔

 وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے بیجنگ کے تعلیمی ماڈل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چین اس وقت دنیا بھر میں تعلیم کے شعبے میں جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور جدت (Innovation) رکھتا ہے، وہ کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے ایک اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ چین کے کئی مایہ ناز تعلیمی ادارے اور جامعات اب پاکستان کے اندر اپنے باقاعدہ کیمپس قائم کرنے کی شدید خواہشمند ہیں، جس سے پاکستانی طلبہ کو ملک کے اندر ہی بین الاقوامی معیار کی تعلیم میسر آ سکے گی۔خالد مقبول صدیقی نے پاکستانی طلبہ کے تعلیمی رجحانات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں اور اس وقت بھی چین جانے والے پاکستانی طلبہ کی اکثریت زیادہ تر ڈاکٹری (MBBS) کی تعلیم حاصل کرنے جاتی ہے۔ تاہم، اب وقت بدل چکا ہے اور ہماری حکومت کی ترجیحات مختلف ہیں۔ انہوں نے کہاہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی طالب علم ڈاکٹری کے روایتی شعبے کے ساتھ ساتھ اب زیادہ سے زیادہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل ایجوکیشن (Digital Education) کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے چین کا رخ کریں۔مستقبل کی عالمی معیشت کا دارومدار انہی جدید ترین ٹیکنالوجیز پر ہے اور چین ان شعبوں میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ چینی حکومت اور وہاں کی انتظامیہ مزید پاکستانی طلبہ کی میزبانی کے لیے انتہائی پرامید ہے اور وہ پاکستانی نوجوانوں کو اسکالرشپس اور دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی وفود کے تبادلوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔