LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مال بردار جہاز پر فائرنگ، 11 ہزار ملاحوں کا انخلا روک دیا گیا وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے؛ ہلاکتیں 920 ہو گئیں، ملبے تلے زندگی کی تلاش جاری، ہسپتالوں میں شدید بحران نیویارک کرائے داروں کی بڑی جیت، سٹی بورڈ نے مئیر مامدانی کی ‘کرایہ منجمد کرنے’ کی تاریخی تجویز منظور کر لی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری، نیچرل گیس معمولی مہنگی پوتن نے روسی تیل پر مغربی پرائس کیپ مسترد، برآمدی پابندی 2027 کے آخر تک بڑھا دی

سی این جی بندش: وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کیلئے خط

Web Desk

18 May 2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں سی این جی (CNG) سیکٹر کو گیس کی فراہمی پر عائد طویل معطلی اور بندش کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کو ایک باضابطہ اور ہنگامی خط لکھ دیا ہے۔ خط میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے گیس صارفین اور کاروباری طبقے کا یہ دیرینہ مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنے خط میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ خیبر پختونخوا ملک میں قدرتی گیس پیدا کرنے والا ایک بڑا اور کلیدی صوبہ ہے، لہذا اسے اس کے آئینی و قانونی حق سے کسی صورت محروم نہ کیا جائے۔ صوبے کے گیس ڈیٹا کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے خط میں تحریر کیا کہ:

خیبر پختونخوا روزانہ تقریباً 494 ایم ایم سی ایف ڈی (MMCFD) قدرتی گیس پیدا کرتا ہے۔اس کے مقابلے میں پورے صوبے کا کُل استعمال صرف 120 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔صوبے کے پورے سی این جی سیکٹر کو چلانے کے لیے محض 36 سے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درکار ہے، جسے وفاق نے یہاں سے بند کر کے کھاد (Fertilizer) کے شعبے کو منتقل کر دیا ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ خط میں آئینِ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت جس صوبے سے گیس پیدا ہوتی ہے، اسی صوبے کے عوام اور صنعتوں کو اس گیس کے استعمال کا پہلا حق حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ نے یاد دہانی کروائی کہ پشاور ہائیکورٹ بھی صوبے میں سی این جی اسٹیشنز کی اس طرح اچانک بندش کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ قرار دے چکی ہے۔محمد سہیل آفریدی نے خط میں خبردار کیا ہے کہ سی این جی سیکٹر کو گیس کی بندش سے صوبے بھر میں شدید عوامی بے چینی پھیل رہی ہے، جس سے امن و امان (Law and Order) کے مسائل پیدا ہونے کا سنگین خدشہ ہے۔ سی این جی کی بندش سے جہاں ایک طرف ہزاروں دیہاڑی دار افراد اور ملازمین کا روزگار متاثر ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف صوبے کا پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر، جو بڑی حد تک سی این جی پر انحصار کرتا ہے، شدید بحران کا شکار ہے۔ گیس کی عدم دستیابی کے باعث ٹرانسپورٹرز مہنگا ایندھن (پٹرول و ڈیزل) استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس کا سارا اضافی بوجھ غریب عوام کی جیب پر کرایوں کی شکل میں پڑ رہا ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیراعظم سے پرزور درخواست کی ہے کہ وہ سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی فوری بحال کرانے کے لیے ذاتی طور پر مداخلت کریں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس اہم آئینی تنازعے کے مستقل حل کے لیے مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کا اجلاس فوری طور پر بلایا جائے اور خیبر پختونخوا کے سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی کا یہ معاملہ باقاعدہ طور پر اس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔