LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک گندم اور گیس کی ترسیل پر زیادتی ہو رہی ہے: گورنر، وزیراعلیٰ کے پی پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران وزیرِ اعظم سے نیول چیف کی ملاقات، پاک بحریہ کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال حافظ نعیم الرحمان کا پٹرولیم لیوی کیخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع سی این جی بندش: وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کیلئے خط اماراتی نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ خطرناک، جوہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا جائے: دفتر خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے وزیرِ مملکت خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ایران-امریکا کشیدگی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا اثر؛اسٹاک ایکسچینج کریش امریکا نے ایران کے لیے امن عمل کی 5 سخت شرائط مقرر کر دیں حکومت کے پہلے 25 ماہ میں وفاقی قرضوں میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ہوشربا اضافہ جنوبی وزیرستان لوئر میں وانا رستم بازار میں بم دھماکہ وفاقی شرعی عدالت کا خودکشی قانون سے متعلق بڑا فیصلہ جاری چین میں زلزلہ، کئی عمارتیں منہدم، ہزاروں افراد محفوظ مقام پر منتقل ایشین جونیئر سکواش چیمپئن شپ کیلئے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا

ڈیڈ لائن ختم؛ اپوزیشن قیادت نے سر جوڑ لیے

Web Desk

18 May 2026

وفاقی دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی اور حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد متحدہ اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے، جس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے سر جوڑ لیے گئے ہیں۔

 پارلیمنٹ ہاؤس کے اپوزیشن چیمبر میں ہونے والے اس اہم ترین اجلاس کی صدارت سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان اور قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) محمود خان اچکزئی نے کی۔ اجلاس میں پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کی اعلیٰ ترین قیادت اور قانونی ماہرین نے شرکت کی، جن میں درج ذیل رہنما شامل تھے:

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان،سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،سینیٹر بیرسٹر علی ظفرنامور ماہرِ قانون ڈاکٹر بابر اعوان

 ذرائع کے مطابق، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اجلاس کے دوران بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی، ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور عدالتی احکامات کے باوجود وکلا و فیملی سے ملاقاتیں نہ کرائے جانے کے سنگین معاملے پر بیرسٹر علی ظفر اور ڈاکٹر بابر اعوان جیسے نامور قانونی ماہرین سے تفصیلی رائے طلب کی۔ اجلاس میں جاری قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کے حوالے سے اپوزیشن کی مشترکہ حکمتِ عملی (Assembly Strategy) پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے گزشتہ جمعہ کو قومی اسمبلی کے فلور پر حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی قانونی ٹیم اور فیملی کی ملاقات فوری طور پر کروائی جائے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو دی گئی یہ ڈیڈ لائن آج ختم ہو چکی ہے اور حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اب اپوزیشن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کے اندر شدید ترین احتجاج کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے سپیکر ڈائس کا گھیراؤ، ایوان سے واک آؤٹ اور کارروائی کو معطل کرنے کے لیے شدید نعرے بازی کی جائے گی تاکہ حکومت پر عالمی اور مقامی سطح پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔