LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مولانا زیرک سیاستدان، اسمبلی میں بیان دے کر ان سے غلطی ہوئی: رانا تنویر حسین وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: حتمی فیصلوں کو بار بار چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کے 14 شہروں کے ماسٹر پلان پر کام جاری ہے: مراد علی شاہ امریکی فوج کا 2 ماہی گیر کشتیوں پر مبینہ حملہ، 4 افراد متاثر ہوئے: ایرانی میڈیا دشمن نے دوبارہ حملہ کیا تو جواب کے اختتام کا وقت ایران خود طے کرے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے قطر کا پاکستانیوں کے لیے 30 دن کے مفت سیاحتی ویزے کا اعلان افغان حکومت اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے دے رہی ہے: پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر قانونی جنگ جاری رکھیں گے: اٹارنی جنرل پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، غیرملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے: خواجہ آصف گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہو سکتا تھا: وزیراعظم سندھ ہائیکورٹ کا پارک پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کا حکم پولینڈ میں آئینی عدالت کا سربراہ معطل، پولیس کا ایوان عدل پر قبضہ، شہریوں کا احتجاج مریم نواز سے فرانسیسی سفیر کی ملاقات، پنجاب میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق یورپ کا 100 ارب یورو کا معاشی نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا: عباس عراقچی

اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک

Web Desk

18 May 2026

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے پاکستانی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ (Current Account) جو گزشتہ ماہ تک بڑے سرپلس میں تھا، اب دوبارہ خسارے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ نازک صورتحال کے باعث پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ شدید اتار چڑھاؤ (Volatility) کا شکار ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، رواں سال اپریل کے مہینے میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے خسارے (Deficit) میں چلا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ اس سے پچھلے مہینے، یعنی مارچ میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 1 ارب 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے بھاری سرپلس (Surplus) پر تھا، جو صرف ایک ماہ کے دوران بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث منفی میں تبدیل ہو گیا۔ اگر اس کا موازنہ گزشتہ سال کے اپریل سے کیا جائے تو گزشتہ سال اپریل میں یہ خسارہ محض 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔

 اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں کی مجموعی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ:

 ملک کا مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے خسارے میں ہے۔اس کے برعکس، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے (پہلے 10 ماہ) میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 1 ارب 66 کروڑ ڈالر سرپلس تھا، جو ملکی معیشت کی مضبوطی کو ظاہر کر رہا تھا، مگر امسال یہ پوزیشن برقرار نہ رہ سکی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران امریکا جنگ اور بحیرہ عرب و آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے پاکستانی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کے مسائل، اور درآمدی و برآمدی لاگت بڑھنے کے باعث پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں ملکی ذخائر اور روپے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔