اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک
Web Desk
18 May 2026
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے پاکستانی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ (Current Account) جو گزشتہ ماہ تک بڑے سرپلس میں تھا، اب دوبارہ خسارے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ نازک صورتحال کے باعث پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ شدید اتار چڑھاؤ (Volatility) کا شکار ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق، رواں سال اپریل کے مہینے میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے خسارے (Deficit) میں چلا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ اس سے پچھلے مہینے، یعنی مارچ میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 1 ارب 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے بھاری سرپلس (Surplus) پر تھا، جو صرف ایک ماہ کے دوران بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث منفی میں تبدیل ہو گیا۔ اگر اس کا موازنہ گزشتہ سال کے اپریل سے کیا جائے تو گزشتہ سال اپریل میں یہ خسارہ محض 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔
اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں کی مجموعی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ:
ملک کا مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے خسارے میں ہے۔اس کے برعکس، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے (پہلے 10 ماہ) میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 1 ارب 66 کروڑ ڈالر سرپلس تھا، جو ملکی معیشت کی مضبوطی کو ظاہر کر رہا تھا، مگر امسال یہ پوزیشن برقرار نہ رہ سکی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران امریکا جنگ اور بحیرہ عرب و آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے پاکستانی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کے مسائل، اور درآمدی و برآمدی لاگت بڑھنے کے باعث پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں ملکی ذخائر اور روپے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم
27 June 2026
پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ
27 June 2026
ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا
27 June 2026
ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
27 June 2026
ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس
27 June 2026
امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے
27 June 2026
آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ
27 June 2026
ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر
27 June 2026