LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

حکومت کے پہلے 25 ماہ میں وفاقی قرضوں میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ہوشربا اضافہ

Web Desk

18 May 2026

پاکستان کے معاشی افق سے ایک تشویشناک اور بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جاری کردہ تازہ ترین اور باضابطہ دستاویزات کے مطابق، موجودہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کے ابتدائی 25 ماہ کے مختصر عرصے کے دوران ملک کے مجموعی قرضوں کے حجم میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ایک بہت بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کے قرضوں میں یہ تیز ترین اضافہ مارچ 2024ء سے لے کر مارچ 2026ء کے درمیانی عرصے (25 ماہ) میں ہوا ہے۔مرکزی بینک کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزی تفصیلات کے مطابق، حکومت کی جانب سے ملکی اخراجات اور بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے بھاری قرضے لیے گئے:مارچ 2024ء سے مارچ 2026ء کے دوران وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں کے حجم میں سب سے بڑا اضافہ دیکھا گیا، جو 14 ہزار 891 ارب روپے تک جا پہنچا۔ اسی 25 ماہ کے تقابلی جائزے کے دوران وفاقی حکومت کے بیرونی یا غیر ملکی قرضوں کے کھاتے میں 824 ارب روپے کا مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ اس پچیس ماہ کے دوران ہونے والے مجموعی اضافے (15 ہزار 714 ارب روپے) کے بعد اب وفاقی حکومت کا کُل واجب الادا قرضہ مارچ 2026ء کے اختتام تک بڑھ کر 80 ہزار 524 ارب روپے کی ریکارڈ ترین سطح کو چھو چکا ہے۔ معاشی ماہرین نے قرضوں کی اس رفتار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت اور پائیدار ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے، جس کے باعث آنے والے بجٹ میں سود کی ادائیگیوں کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔