چین میں زلزلہ، کئی عمارتیں منہدم، ہزاروں افراد محفوظ مقام پر منتقل
Web Desk
18 May 2026
چین کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں اور کم از کم دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ قدرتی آفت کے بعد متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر کے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، چین کے جنوب مغربی خودمختار علاقے گوانگشی (Guangxi) میں علی الصبح زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کی شدت مانیٹرنگ سسٹم پر 5.2 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے باعث پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے عمارتوں سے باہر کھلے میدانوں کی طرف بھاگے۔ انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں سے اب تک 7 ہزار سے زائد افراد کو بحفاظت نکال کر عارضی کیمپوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کو منتقل کرنے والے ان بڑے سرکاری قافلوں کی وجہ سے مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کا بہاؤ متاثر ہو سکتا ہے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ژنہوا‘ (Xinhua) اور ’چائنہ سینٹرل ٹیلی ویژن‘ (CCTV) نے اپنی رپورٹس میں تصدیق کی ہے کہ ملبے تلے دبنے اور مختلف حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ ایک شخص تاحال لاپتہ ہے جس کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ اس کے علاوہ 4 شدید زخمی افراد کو نکال کر فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔
انفراسٹرکچر اور لائف لائنز کی صورتحال: زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر چینی ریلوے حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹریکس اور سگنلنگ سسٹم متاثر ہونے کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت میں عارضی رکاوٹ آ سکتی ہے۔ اس وقت ریلوے انجینئرز اور ماہرین کی ٹیمیں متاثرہ ریلوے لائنز اور پلوں کے انفراسٹرکچر کا باریک بینی سے معائنہ کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب، اطمینان بخش بات یہ ہے کہ سرکاری میڈیا کے مطابق زلزلے کے باوجود متاثرہ ریجن میں مواصلاتی نظام (موبائل اور انٹرنیٹ سروسز) مکمل طور پر بحال ہے۔ اس کے ساتھ ہی بجلی کی ہائی وولٹیج لائنز، پینے کے پانی اور گیس کی فراہمی کے نیٹ ورک کو بھی کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا، اور شہری علاقوں میں ٹریفک کا نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔ انتظامیہ ملبے کو ہٹانے اور نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانے میں مصروف ہے۔
متعلقہ عنوانات
آڈیو لیک کا معاملہ؛ شوکت نواز میر اور مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر مقدمات قائم،
9 June 2026
کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان
9 June 2026
سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان
9 June 2026
وزیراعظم کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت
9 June 2026
فلپائن: تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 41 ہو گئی، ہزاروں افراد بے گھر
9 June 2026
امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں: ابراہیم عزیزی
9 June 2026
پنجاب حکومت کا پاسکو سے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ
9 June 2026
افغان طالبان وفد کے ممکنہ برسلز دورے کیخلاف سپین میں یورپی پارلیمنٹ دفتر کے باہر احتجاج
9 June 2026