LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیفا نے قطر کے فٹبالر عاصم مدیبو پر 5 میچز کی پابندی عائد کر دی گوگل سرچ ٹریفک کم ہونے کی وجہ سامنے آگئی ایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ میٹا نے کم قیمت ’اے آئی اسمارٹ چشمے‘ متعارف کرا دیے ایک ہزار عمرہ زائرین شاہ سلمان کے شاہی مہمان بنیں گے عالمی مالیاتی ادارے بارکلے نے پاکستان کے خودمختار ڈالر بانڈز کی درجہ بندی اپ گریڈ کر دی۔ اسرائیل نے خطے میں نیا محاذ کھولنے کی تیاری شروع کردی عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں ایک دن کے وقفے کے بعد سونے کی قیمتوں میں پھر بڑی کمی سوئٹزرلینڈ مذاکرات, 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی سلامتی کونسل نے “امن دستوں کیخلاف جرائم کا محاسبہ” قرارداد منظور کرلی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، چیف جسٹس امین الدین خان کی روس میں عالمی قانونی فورم میں شرکت اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال ایرانی اور سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مذاکراتی عمل اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا تو مختلف آپشنز موجود ہیں: مارکو روبیو فیفا ورلڈ کپ کے ابتدائی دو راؤنڈز میں 5 ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر

اماراتی نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ خطرناک، جوہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا جائے: دفتر خارجہ

Web Desk

18 May 2026

پاکستان نے متحدہ عرب امارات (UAE) کے مایہ ناز ’براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ‘ (Barakah Nuclear Energy Plant) پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے برادر ملک یو اے ای کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ (Foreign Office) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اور تفصیلی بیان کے مطابق، شہری جوہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون (International Law)، بین الاقوامی انسانی قانون، اقوامِ متحدہ (UN) کے چارٹر اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے قوانین و قراردادوں میں درج جوہری تحفظ اور سلامتی کے بنیادی اصولوں کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے۔شہری نیوکلیئر انفراسٹرکچر کے تحفظ اور اس کی حرمت کو عالمی سطح پر ایک مسلمہ اصول کی حیثیت حاصل ہے، جسے ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔جوہری تنصیبات کو کسی بھی جنگی یا کشیدہ حالت میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں انسانی جانوں، ماحولیات اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے انتہائی تباہ کن اور ناقابلِ تلافی نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال کے پیشِ نظر تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ عالمی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے سخت گریز کریں جو خطے میں جاری کشیدگی اور آگ کو مزید بھڑکا سکتا ہو۔بیان کے اختتام پر ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے عین مطابق، صرف پرامن مذاکرات اور سنجیدہ سفارت کاری (Diplomacy) ہی خطے میں دیرپا امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی لانے کا واحد اور قابلِ عمل راستہ ہیں۔