LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان اجلاس کے بعد کرغزستان روانہ حوثیوں نے دوبارہ حملہ کیا تو ذمہ دار ایران ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ خیبرپختونخوا حکومت کی بلدیاتی قانون سے متعلق ترمیم مسترد قطر کی سعودی بحری جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی سعودیہ سے جوہری معاہدہ ابراہم اکارڈ میں شمولیت سے مشروط ہے: ٹرمپ ایرانی وزیر داخلہ کی لاہور آمد، علامہ اقبالؒ کے مزار پر حاضری وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال سعودی امریکا جوہری معاہدہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، نفتالی بینٹ ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی شناختی کارڈ نیٹ ورک کے 3 ملزم گرفتار وزیرِ تعلیم پنجاب کا اسکولوں میں بچوں کو خود پڑھانے کا اعلان؟ کون سے مضامین پڑھائیں گے؟ مفت عمرہ کا جھانسہ دے کر آئس سعودی عرب اسمگل کرنے والا مرکزی اشتہاری گرفتار ازخود دوائیں مہنگی کرنے والی فارما کمپنیوں کے گرد گھیرا تنگ دیو ہیکل بحری جہاز “ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا

یورپ جارحیت کی پیروی کی بجائے سفارتکاری میں قائدانہ کردار ادا کرے، کاظم غریب آبادی

Web Desk

22 July 2026

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی و اسرائیلی جارحانہ پالیسیوں اور یکطرفہ اقدامات کی پیروی کرنے کے بجائے سفارتکاری اور پرامن حل کے لیے اپنا قائدانہ اور مؤثر کردار ادا کریں۔

ایک اہم سفارتی بیان میں کاظم غریب آبادی نے کہا کہ یورپ کو چاہیے کہ وہ خطے اور دنیا میں مزید تباہی اور جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک آزادانہ اور ذمہ دارانہ موقف اپنائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی دباؤ یا عسکری حکمتِ عملی کے پیچھے اندھا دھند چلنے سے نہ صرف یورپ کی اپنی سفارتی معتبریت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے بین الاقوامی سلامتی اور عالمی معیشت کو بھی شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ تعمیری مذاکرات اور سفارتی راستوں کی حمایت کی ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ یورپی فریقین بھی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے غیر جانبدارانہ اور تعمیری انداز اپنائیں۔