LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹرسٹی بس کرایوں میں اضافہ خوراک کی بلا تعطل فراہمی کے لیے امارات میں متبادل سپلائی چین فعال رجب بٹ نے اہلیہ ایمان فاطمہ سے شادی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ایران پر جتنا دباؤ بڑھے گا ردعمل بھی اتنا ہی سخت ہوگا: ایرانی صدر طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، چین کا ایران پر حملے روکنے کا مطالبہ نیویارک:میئر ہاؤس کے باہر اسلام مخالف مظاہرے کے دوران مشتبہ آلات پھینکے گئے، 2افراد زیر حراست  جنگ کے بعد ایران کا نقشہ شاید ویسا نہ رہے: امریکی صدر ٹرمپ دبئی میں فضائی کارروائی کے دوران ملبہ گرنے سے جاں بحق ڈرائیور پاکستانی تھا، اماراتی حکام ایران پر کسی بھی بڑے حملے سے رجیم چینج ممکن نہیں، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ پیشگی منصوبہ بندی نہ ہوتی تو پیٹرول 375 روپے فی لیٹر ہو چکا ہوتا :خواجہ آصف ایرانی حملوں سے پاکستان کو سعودی عرب کے معاملے میں مشکل صورتحال کا سامنا جزیرہ قشم پر امریکی حملے کے بعد ایران کا بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ تہران میں حملہ ، قدس فورس کے 16طیارے تباہ کردیے، اسرائیل کا دعویٰ آسان شکار نہیں، عوام کی حفاظت کریں گے، صدر یواے ای کا ایرانی حملوں پرردعمل ایران پر حملہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیاپر احسان اور خدمت ہے، امریکی صدر

کشمیری مسلمان آج یوم شہدا جموں منا رہے ہیں

Web Desk

6 November 2025

ڈوگرہ فوج نے 6 نومبر 1947 کو جموں کٹھوا، ادہم پور اور ریاسی کے اضلاع میں ظلم و سفاکیت سے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی۔
یہ واقعہ اُس وقت کا ہے جب کثیر تعداد میں کشمیری مسلمان پاکستان کی جانب نقل مکانی کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
قتل عام سے قبل ڈوگرہ فوج کے مسلمان سپاہیوں کو برطرف کیا گیا اور مسلمانوں کی برطرفی کے بعد جموں کینٹ کا کمانڈر ہندو افسر لگا دیا گیا۔ جابرانہ قتل عام میں ڈوگرہ فوج کے ساتھ راشٹریہ سیوک سنگھ بھی شامل تھی۔
اسی روز، 6 نومبر 1947 کو 60 سے زائد بسوں میں کشمیری مسلمانوں کو سوار کرا کر سیالکوٹ کی طرف پہلا قافلہ روانہ کیا گیا۔
سامبا کے مقام پر راشٹریہ سیوک سنگھ اور ڈوگرہ فوج نے گھات لگا کر حملہ کیا اور 123 گاؤں جلا کر خاکستر کر دیے گئے، دو ہفتے تک جاری رہنے والے قتل عام کے نتیجے میں 2لاکھ 37 ہزار کشمیری مسلمان بے دردی سےشہید کیے گئے۔
عالمی طاقتوں کو اس امر پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ 78سال گزر جانے کے باوجود کشمیری مسلمان اپنا حق خود ارادیت استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔