LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
المخا میں یمنی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں 5 حوثی ہلاک، 13 زخمی برطانیہ میں دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار 5 افراد ضمانت پر رہا غزہ میں نیتن یاہو کی پیدا کردہ تکالیف کو جائز قرار نہیں دے سکتے، برطانوی وزیر خارجہ ایران کے متعدد سابق حکومتی عہدیداران کا حکومت کو خط، این پی ٹی معاہدے سے نکلنے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا زائرین کی پروازیں بحال کرنے کیلئے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ ٹرمپ جوہری پروگرام پر ٹھوس اقدامات کے بدلے ایران کو اقتصادی ریلیف دینے کیلئے تیار امریکی حکام نے آج ایران کے ثالثوں سے بات چیت کی ہے، صدر ٹرمپ احتجاج کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے، بیرسٹر گوہر گورنر راج کی دھمکیوں پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، سہیل آفریدی سرفراز بگٹی کی چوہدری شجاعت سے ملاقات، بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی جب تک عمران خان نہیں کہیں گے، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ رہیں گے: جنید اکبر ایم ڈی کیٹ 2026: سندھ کے ٹاپ 20 میں کراچی کا کوئی امیدوار شامل نہیں اعظم نذیر تارڑ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا عندیہ دے دیا موٹر سائیکل کو گاڑی سے گھسیٹنے کا معاملہ، اہم انکشافات سامنے آگئے

جان ریمبو کا انڈسٹری میں امتیازی سلوک و ناانصافیوں کا انکشاف

Web Desk

25 June 2026

پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اور مقبول ترین اداکار افضال خان المعروف جان ریمبو نے ٹیلی وژن انڈسٹری میں سینئر فنکاروں کے ساتھ ہونے والے رویے، ٹائپ کاسٹنگ (ایک ہی جیسے کرداروں میں محدود کرنا) اور غیر منصفانہ کرداروں کی تقسیم کے حوالے سے اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جان ریمبو کا شمار لالی ووڈ کے ان چند بڑے ستاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے طویل اور شاندار کیریئر کے دوران سینکڑوں فلموں میں مرکزی کردار نبھائے۔ وہ خاص طور پر اپنی بہترین مزاحیہ اداکاری، منفرد باڈی لینگویج اور بہترین رقص (ڈانس) کی صلاحیتوں کے باعث ملک گیر شہرت رکھتے ہیں۔

حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جان ریمبو نے فلمی صنعت کے زوال کے بعد ٹیلی وژن کا رخ کرنے والے فنکاروں کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ فلمی دور ختم ہونے کے بعد اگرچہ وہ متعدد ٹی وی ڈراموں میں نظر آئے، لیکن چھوٹے اسکرین کے میکرز نے انہیں ہمیشہ صرف مزاحیہ (کامیڈی) کرداروں تک ہی محدود رکھا۔

اداکار نے شکوہ کرتے ہوئے کہا

“مجھے ہمیشہ کامیڈی کے دائرے میں بند رکھا گیا، جس کی وجہ سے میں ٹیلی وژن پر ایسے سنجیدہ، گہرے اور مضبوط کردار ادا کرنے سے محروم رہا جن کی مجھے ہمیشہ سے خواہش تھی۔”

 انہوں نے کہا کہ ماضی میں جاوید شیخ اور ندیم بیگ جیسے لیجنڈ اداکاروں کو فلموں میں کہانی کے عروج پر مبنی مرکزی اور جاندار کردار ملتے تھے، جبکہ ان کے دور کے نوجوان اداکاروں کو زیادہ تر صرف ایکشن مناظر اور گانوں تک محدود کر دیا جاتا تھا۔ اداکار نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب وہ عمر اور تجربے کے اس حصے میں پہنچے جہاں وہ خود کسی کہانی کو اپنے کندھوں پر اٹھا سکتے اور سنجیدہ پرفارمنس دے سکتے، تو بدقسمتی سے پاکستان کی فلمی صنعت زوال کا شکار ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کی ٹیلی وژن انڈسٹری بھی ان کی حقیقی فنکارانہ صلاحیتوں کے مطابق کردار فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور وہاں سینیئرز کے تجربے سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔

انٹرویو کے اختتام پر جان ریمبو نے واضح کیا کہ وہ آج بھی اسکرین پر کام کرنے کے لیے بھرپور توانائی، جذبہ اور فٹنس رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈرامہ میکرز اور پروڈیوسرز پر زور دیا کہ سینئر فنکاروں کو ڈراموں میں محض رسمی کردار دینے کے بجائے ایسے معیاری اور باوقار کردار دیے جائیں، جن کے ذریعے وہ اپنی اداکاری کے پوشیدہ پہلوؤں کو مداحوں کے سامنے پیش کر سکیں۔