سلامتی کونسل دہشت گردی کے خلاف موجودہ نظام سے خامیاں دور کرے: پاکستان
Web Desk
13 September 2026
نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنے عالمی فریم ورک کو مضبوط بنائے، پابندیوں کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرے اور دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے جدید خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک نیا، جامع اور دور اندیش بین الاقوامی ردعمل اختیار کرے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ’دہشت گردی کی کارروائیوں سے بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کو لاحق خطرات، نائن الیون کے 25 سال بعد: دہشت گردی کے خلاف سلامتی کونسل کی لڑائی کی تجدید‘ کے عنوان پر سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے نائن الیون کے حملوں میں جان بحق ہونے والے 7 پاکستانیوں سمیت تمام متاثرین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور امریکی حکومت و عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
سفیر عاصم افتخار نے 9/11 کے بعد کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں پر سلامتی کونسل کا ردعمل، بشمول تاریخی قرارداد 1373 کی منظوری، تاحال بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس عالمی جنگ میں پاکستان کے بنیادی اور فرنٹ لائن کردار کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی مؤثر انٹیلی جنس اور سکیورٹی کارروائیوں نے القاعدہ کی صلاحیتوں کو فالج زدہ کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی لازوال قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس جنگ میں پاکستان نے بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ جاری صدی کے آغاز سے اب تک سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت 90 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے، جبکہ ملک کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
مستقل مندوب نے تشویش ظاہر کی کہ 25 برسوں کے دوران دہشت گردی کی نوعیت اور فریم ورک بالکل بدل چکا ہے۔ انہوں نے افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی پر خاص تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران 4,700 سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی)، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور داعش جیسے خطرناک گروہوں کے خلاف ٹھوس بین الاقوامی ایکشن کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں ذہن سازی، مالی اعانت اور بھرتی کے لیے ڈارک ویب، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب دنیا بھر میں انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی تیزی سے ابھر رہی ہے۔
عاصم افتخار نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ غیر ملکی مقبوضہ علاقوں میں قابض قوتوں کے مظالم اور ریاستی دہشت گردی کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی عالمی انسداد دہشت گردی حکمت عملی (UN Global Counter-Terrorism Strategy) کے چاروں ستونوں پر متوازن عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
افغانستان میں داعش خراسان اب بھی سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے: روس کا انتباہ
13 September 2026
نیویارک میں محبوس وینزویلا کے سابق صدر کی اہلیہ کو ہارٹ اٹیک کا خدشہ
13 September 2026
انڈونیشیا میں بحری جہاز خراب موسم کی لپیٹ میں آ گیا، 102 مسافر بچا لیے گئے، 140 تاحال لاپتا
13 September 2026
ایران کی امریکہ کو 7 شرائط پیش، مطالبات کی منظوری تک آبنائے ہرمز بند رکھنے کا فیصلہ
13 September 2026
ناکہ بندی کے دوران 60 روز میں 100 تجارتی بحری جہاز واپس بھیجے، سینٹ کام
13 September 2026
سعودی و برطانوی وزرائے خارجہ کا رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو
13 September 2026
سعودی شہر جازان پر حوثیوں کا حملہ: عمارتیں اور گاڑیاں نشانہ، 2 افراد زخمی
13 September 2026
حوثیوں کا یمن پر 48 گھنٹوں میں سعودی عرب کی جانب سے 129 فضائی حملوں کا دعویٰ
13 September 2026