LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

بھارت کا اسمارٹ فونز کی نگرانی کیلئے ایک اور منصوبے پر غور

Web Desk

8 December 2025

بھارت نے کچھ روز قبل تمام اسمارٹ فونز میں حکومتی سائبر سکیورٹی ایپ کو پری انسٹال کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔
مگر اب حکومت کی جانب سے ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت اسمارٹ فونز تیار کرنے والی کمپنیوں کو تمام فونز میں ہمیشہ کام کرنے والی سیٹلائیٹ لوکیشن ٹریکنگ کو ان ایبل کرنا ہوگا۔
اس کے تحت لوکیشن سروسز ہر وقت ٹرن آن رہیں گی اور ان کو اآف کرنے کا آپشن صارفین کو دستیاب نہیں ہوگا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رٌورٹ کے مطابق بھارتی ٹیلی کام انڈسٹری یہ بھی چاہتی ہے کہ فون کمپنیوں کی جانب سے ان نوٹیفکیشنز کو ڈس ایبل کر دیا جائے جو صارفین کو آگاہ کرتے ہیں کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو ان کی لوکیشن تک رسائی حاصل ہے
اس حوالے سے بھارتی وزارت داخلہ کے حکام کی ملاقات اسمارٹ فون انڈسٹری کے عہدیداران سے 5 دسمبر کو ہونا تھی، مگر اسے ملتوی کر دیا گیا۔
اس تجویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آپ کو شرپسند عناصر سے محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم نریندرا مودی کی انتظامیہ کو ہمیشہ یہ فکر رہتی ہے کہ تحقیقات کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارون کو لوکیشن ڈیٹا تک مناسب رسائی حاصل نہیں ہوگی۔
ایپل، گوگل اور سام سنگ اس منصوبے کے مخالف ہیں اور انہوں نے حکومت پر اسے مسترد کرنے کے لیے زور دیا ہے۔
دوسری جانب انڈیا سیلولر اینڈ الیکٹرونکس ایسوسی ایشن نے موسم گرما میں ایک مراسلے کے ذریعے حکومت کو کہا تھا کہ اس طرح کے منصوبے کی دنیا میں کوئی مثال موجود نہیں۔
مراسلے میں انتباہ کیا گیا کہ اس سے فوجیوں، ججز، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور صحافیوں کی پرائیویسی متاثر ہوگی۔