LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک کو انتشار سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی وفد دہشت گردی پر نہیں مانا: امیر مقام و شیری رحمان پی ٹی آئی دہشت گردی پر تعاون سے انکاری، لانگ مارچ اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیں گے: رانا ثناء اللہ کے پی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی، حد سے زیادہ انتظار نہیں ہو سکتا: طلال چوہدری حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار، لانگ مارچ ملتوی نہیں ہوگا: بیرسٹر گوہر نیویارک: 72 گھنٹے کے گرینڈ آپریشن میں لاپتہ اور انسانی اسمگلنگ کا شکار 34 بچے بازیاب ایران اپنے لیے مشکل یا آسان راستہ اختیار کر سکتا ہے: ٹرمپ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا روٹ میپ جاری کر دیا لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہئے: بیرسٹر گوہر لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا: رانا ثنا اللہ چھوٹے یونٹس سے لوگ اپنی مرضی سے انتظامی سربراہ منتخب کر سکیں گے، مصطفیٰ کمال سپین میں مہنگے گھروں کے خلاف احتجاج، ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی طالبان رجیم کیخلاف 68 کارروائیاں،102 اہلکار ہلاک یوکرین کا حملوں کی صورت روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کا عمل مزید تیز کرنے کا اعلان سعودی و یمنی افواج نے حوثیوں کیخلاف فوجی کارروائی کا منصوبہ بنا لیا مقبوضہ مغربی کنارے کا پورا علاقہ اسرائیل کا ہے، اتمار بن گویر

78 برسوں میں ملک کا نظام نہیں بدلا، صرف چہرے بدلتے رہے

Web Desk

21 December 2025

جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمن نے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 78 برسوں میں ملک کا نظام نہیں بدلا، صرف چہرے بدلتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین بلدیاتی حکومتوں اور اختیارات کی منتقلی کا حکم دیتا ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوتا، بیوروکریسی عوامی نمائندوں کے ماتحت ہونے کے بجائے انہیں اپنے ماتحت بنا چکی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے سوال اٹھایا کہ ایک ہی سی ایس ایس افسر معیشت، داخلہ، خارجہ اور قانون کا ماہر کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ جاگیردار، وڈیرے اور بیوروکریسی پورے نظام پر مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق 5 سے 16 سال کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر ملک میں 3 کروڑ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں، صرف پنجاب میں یہ تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے، جس پر تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان ہونا چاہیے۔

انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر حکومت اچھی ہے تو تعلیم اور صحت کا بحران کیوں موجود ہے، سرکاری اسکولوں اور بیسک ہیلتھ یونٹس کو این جی اوز کے حوالے کیا جا رہا ہے جو ریاست کی آئینی ذمہ داریوں سے دستبرداری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشتہارات اور چند منصوبے دکھا کر ترقی کا تاثر دیا جا رہا ہے، ہزاروں ارب کے ترقیاتی بجٹ کے باوجود عوام کو کوئی فائدہ نہیں ملا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ غریب پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے جبکہ اشرافیہ محفوظ ہے، پیٹرول عالمی منڈی میں سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں لیوی بڑھانے کا اعلان کیا جا رہا ہے، ایف بی آر ناکام ہو چکا ہے اور بجلی، گیس، موبائل اور پیٹرول پر ٹیکسوں نے عوام کو نچوڑ دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کرپشن اور لوٹ مار کے نظام کا خاتمہ کیے بغیر ملک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔