کینسر کے انجیکشن سے متعلق حوصلہ افزا انکشاف!
Web Desk
3 June 2026
لندن: طبی سائنس کی دنیا میں کینسر کے خلاف ایک اور بڑی اور تاریخی کامیابی سامنے آئی ہے۔ حال ہی میں کیے گئے ایک جدید طبی ٹرائل میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کینسر کے علاج کے لیے استعمال کیا جانے والا ایک نیا انجیکشن ایسے مریضوں میں بھی حیران کن اور معجزاتی نتائج دکھا سکتا ہے، جن کے لیے شفایابی اور علاج کی تمام امیدیں تقریباً ختم ہو چکی تھیں۔
اس انقلابی دوا کو ‘امیونٹیمب’ (Immunatemb) نامی ٹرپل ایکشن انجیکشن کا نام دیا گیا ہے، جو پہلے ہی مخصوص کینسر کے مریضوں کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ یہ انجیکشن انسانی جسم میں داخل ہو کر ایسے پروٹین اور انزائمز کی نمو (پیداوار) کو روکتا ہے جو کینسر کے ٹیومرز کو انسانی مدافعتی نظام (Immune System) سے بچنے اور چھپنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، یہ انجیکشن جسم میں موجود سفید خون کے خلیات (White Blood Cells) کو بھی شدید متحرک کرتا ہے تاکہ وہ کینسر کے خلیات پر زیادہ مؤثر اور جارحانہ انداز میں حملہ کر کے انہیں ختم کر سکیں۔
اس نئی ریسرچ کے دوران یہ انجیکشن 102 ایسے مریضوں پر آزمایا گیا جو سر اور گردن کے آخری اسٹیج اور لاعلاج کینسر میں مبتلا تھے۔ ٹرائل کے بعد درج ذیل حیران کن نتائج سامنے آئے انجیکشن کے کورس کے بعد مجموعی طور پر 42 فیصد مریضوں کے جسم میں موجود کینسر کے خطرناک ٹیومرز کا سائز واضح طور پر سکڑ گیا۔سب سے حیران کن اور معجزاتی بات یہ رہی کہ 15 مریضوں میں کینسر کے ٹیومرز جسم سے مکمل طور پر ختم ہو گئے۔ یہ وہ مریض تھے جن پر دنیا کی دیگر تمام دستیاب ادویات اور علاج ناکام ہو چکے تھے۔
واضح رہے کہ سر اور گردن کے کینسر میں بنیادی طور پر زبان، گلے اور منہ کے مختلف اندرونی حصوں کے ٹیومرز شامل ہوتے ہیں۔ برطانیہ (UK) میں یہ کینسر کی نویں سب سے عام اور مہلک قسم ہے، جہاں ہر سال تقریباً 13 ہزار افراد اس کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچتے ہیں۔
اس اہم ترین سائنسی تحقیق کے سربراہ کیون ہیرنگٹن نے ٹرائل کے نتائج پر گفتگو کرتے ہوئے کہا”یہ نتائج ایسے مریضوں میں دیکھنے کو ملے ہیں جن کا مرض کینسر کے روایتی علاج یعنی ‘کیموتھراپی’ اور ‘امیونوتھراپی’ دونوں کے خلاف مکمل مزاحمت (Resistance) اختیار کر چکا تھا اور ان پر کوئی دوا اثر نہیں کر رہی تھی۔ ایسے گروپ کے لیے طبی دنیا میں علاج کے مواقع انتہائی محدود یا نا ہونے کے برابر ہوتے ہیں، اس لیے اس مایوس کن صورتحال میں انجیکشن کا اتنا واضح اور بڑا فائدہ دیکھنا نہایت حوصلہ افزا اور کینسر کی تاریخ میں ایک بڑا سنگِ میل ہے۔”
متعلقہ عنوانات
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026