LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، امریکی حکام نائجیریا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 32 افراد سوار تھے مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری نئی جنگ کی صورت میں خطے کے امریکی اتحادی بھی متاثر ہوں گے: ایران ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبے کی کامیابی، مریم نواز کو عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا خیبر پختونخوا کی صورتحال، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مختلف آپشنز پر مشاورت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 6 اور 7 اکتوبر کو بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری پاکستان پولینڈ تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلنے کے خواہاں ہیں: وزیراعظم بانی پی ٹی آئی سے پاکستان کی خاطر بات چیت کرنی چاہیے: علامہ ناصر عباس ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان بھی بحفاظت بازیاب تبدیلی گالیاں دینے سے نہیں، کچھ کر دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال جیٹ فیول کی قیمت میں 3 روز کے دوران 9 روپے سے زائد اضافہ افغانستان پر ماسکو فارمیٹ اجلاس، پاکستان کی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت سپین: کرایوں میں اضافے کے خلاف احتجاج، قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان یمنی فوج کا باب المندب پر کنٹرول، 1122 حملوں کے دوران 1747 جنگجو ہلاک

6ماہ میں حکومتی اخرجات 10ارب سےتجاوز، سودپر3ہزار563ارب، دفاع پر 1ہزار44ارب روپے خرچ

Web Desk

10 February 2026

رواں مالی سال کے چھ ماہ کے دوران10ارب روپے سے زیادہ کےحکومتی اخراجات کا انکشاف ہوا۔ یہ اخراجات پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 6 ہزار 61 ارب روپے زیادہ ہیں۔سرکاری اخراجات میں 504ارب روپے پنشن، 380 ارب روپے سول حکومتی اخراجات اور 462 ارب روپے سبسڈیز پر خرچ کیے گئے۔

دستاویز کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران بجٹ بیلنس 2 ہزار 119 ارب روپے سے کم ہو کر 541 ارب روپے جبکہ پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے سرپلس رہا۔ مجموعی حکومتی آمدن اس عرصے میں 10 ہزار 683 ارب روپے رہی، جس میں ٹیکس آمدن 6 ہزار 729 ارب اور نان ٹیکس آمدن 3 ہزار 954 ارب روپے رہی۔۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی آمدن 6 ہزار 160 ارب روپے جبکہ صوبائی حکومتوں کی آمدن 568 ارب روپے رہی۔چھ ماہ میں سود کی ادائیگیوں پر 3 ہزار 563 ارب روپے اور دفاع پر 1 ہزار 44 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ اس دوران حکومتی قرضوں میں 34 ارب روپے بیرونی ذرائع اور 575 ارب روپے مقامی ذرائع سے لیے گئے ہیں۔۔۔

سرکاری اخراجات میں 504 ارب روپے پنشن، 380 ارب روپے سول حکومتی اخراجات اور 462 ارب روپے سبسڈیز پر خرچ کیے گئے۔ اس کے علاوہ، 822 ارب روپے پی ڈی ایل، 8.8 ارب روپے سی پی پی لیوی اور 25 ارب روپے کاربن لیوی جمع کی گئی۔ مرکزی بینک نے جولائی سے دسمبر کے دوران حکومت کو 2 ہزار 428 ارب روپے منافع فراہم کیا۔۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا کہ صوبوں کو رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 616 ارب روپے جاری کیے گئے، جس میں پنجاب کو 1 ہزار 796 ارب، سندھ کو 901 ارب، خیبر پختونخوا کو 586 ارب اور بلوچستان کو 322 ارب روپے این ایف سی کے تحت فراہم کیے گئے ہیں۔