LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان

6ماہ میں حکومتی اخرجات 10ارب سےتجاوز، سودپر3ہزار563ارب، دفاع پر 1ہزار44ارب روپے خرچ

Web Desk

10 February 2026

رواں مالی سال کے چھ ماہ کے دوران10ارب روپے سے زیادہ کےحکومتی اخراجات کا انکشاف ہوا۔ یہ اخراجات پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 6 ہزار 61 ارب روپے زیادہ ہیں۔سرکاری اخراجات میں 504ارب روپے پنشن، 380 ارب روپے سول حکومتی اخراجات اور 462 ارب روپے سبسڈیز پر خرچ کیے گئے۔

دستاویز کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران بجٹ بیلنس 2 ہزار 119 ارب روپے سے کم ہو کر 541 ارب روپے جبکہ پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے سرپلس رہا۔ مجموعی حکومتی آمدن اس عرصے میں 10 ہزار 683 ارب روپے رہی، جس میں ٹیکس آمدن 6 ہزار 729 ارب اور نان ٹیکس آمدن 3 ہزار 954 ارب روپے رہی۔۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی آمدن 6 ہزار 160 ارب روپے جبکہ صوبائی حکومتوں کی آمدن 568 ارب روپے رہی۔چھ ماہ میں سود کی ادائیگیوں پر 3 ہزار 563 ارب روپے اور دفاع پر 1 ہزار 44 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ اس دوران حکومتی قرضوں میں 34 ارب روپے بیرونی ذرائع اور 575 ارب روپے مقامی ذرائع سے لیے گئے ہیں۔۔۔

سرکاری اخراجات میں 504 ارب روپے پنشن، 380 ارب روپے سول حکومتی اخراجات اور 462 ارب روپے سبسڈیز پر خرچ کیے گئے۔ اس کے علاوہ، 822 ارب روپے پی ڈی ایل، 8.8 ارب روپے سی پی پی لیوی اور 25 ارب روپے کاربن لیوی جمع کی گئی۔ مرکزی بینک نے جولائی سے دسمبر کے دوران حکومت کو 2 ہزار 428 ارب روپے منافع فراہم کیا۔۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا کہ صوبوں کو رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 616 ارب روپے جاری کیے گئے، جس میں پنجاب کو 1 ہزار 796 ارب، سندھ کو 901 ارب، خیبر پختونخوا کو 586 ارب اور بلوچستان کو 322 ارب روپے این ایف سی کے تحت فراہم کیے گئے ہیں۔