LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز پر امریکا ایران ثالثی کی نئی کوششیں کی جائیں گی: قطر محمد علی درانی کا بہاولپور اور ہزارہ کو فوری ماڈل صوبے بنانے کا مطالبہ انمول پنکی کیخلاف قتل بالسبب کے مقدمہ میں فرد جرم عائد، ملزمہ کا صحت جرم سے انکار ایران کا جوہری ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی جاری رکھنے کا اعلان فرانس کا 2 ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان حکومت نے ڈیزل 5 روپے 27 پیسے اور پٹرول 3 روپے 34 پیسے فی لٹر مہنگا کر دیا پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو ملک گیر دھرنے دیں گے: حافظ نعیم الرحمان ریٹیلر سکیم ایپ کی لانچنگ کل، وزیر خزانہ افتتاح کریں گے عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلے پر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے: اعظم تارڑ پاکستان میں پہلی بار سمندر کے کنارے اعلیٰ معیار کی گیس دریافت سعودی آرامکو کا ایشیائی ممالک کو تیل فراہم کرنے کا نیا منصوبہ آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا اسلام آباد معاہدے پر عمل کرے: قالیباف ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل امریکا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہورہی: ترجمان پاسداران انقلاب جولائی میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا

فرانس کا 2 ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان

Web Desk

19 August 2026

فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو (Jean-Noël Barrot) نے اعلان کیا ہے کہ فرانس آنے والے دنوں میں 2 ایرانی سفارت کاروں کو اپنے ملک سے بخلال/ملک بدر کر دے گا۔ فرانس کا یہ جوابی اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب تہران نے گزشتہ ماہ گرفتار اور حراست میں لیے گئے 2 فرانسیسی سفارتی اہلکاروں کو باقاعدہ ‘ناپسندیدہ شخصیت’ (Persona non grata) قرار دیتے ہوئے ایران واپس آنے سے روک دیا تھا۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جولائی میں تہران میں فرانسیسی سفارت کاروں کی غیر قانونی گرفتاری اور ناروا سلوک ایک ناقابلِ برداشت عمل تھا جس کا فرانس کی جانب سے برابری کی سطح پر مناسب جواب دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، ایران کی وزارتِ اطلاعات نے فرانسیسی سفارت کاروں پر ملکی سلامتی کے خلاف غیر ملکی مداخلت کے الزامات عائد کیے تھے۔ سفارت کاروں کی باہمی ملک بدری کے ان اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیاں سفارتی اور کشیدہ تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔