LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز پر امریکا ایران ثالثی کی نئی کوششیں کی جائیں گی: قطر محمد علی درانی کا بہاولپور اور ہزارہ کو فوری ماڈل صوبے بنانے کا مطالبہ انمول پنکی کیخلاف قتل بالسبب کے مقدمہ میں فرد جرم عائد، ملزمہ کا صحت جرم سے انکار ایران کا جوہری ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی جاری رکھنے کا اعلان فرانس کا 2 ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان حکومت نے ڈیزل 5 روپے 27 پیسے اور پٹرول 3 روپے 34 پیسے فی لٹر مہنگا کر دیا پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو ملک گیر دھرنے دیں گے: حافظ نعیم الرحمان ریٹیلر سکیم ایپ کی لانچنگ کل، وزیر خزانہ افتتاح کریں گے عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلے پر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے: اعظم تارڑ پاکستان میں پہلی بار سمندر کے کنارے اعلیٰ معیار کی گیس دریافت سعودی آرامکو کا ایشیائی ممالک کو تیل فراہم کرنے کا نیا منصوبہ آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا اسلام آباد معاہدے پر عمل کرے: قالیباف ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل امریکا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہورہی: ترجمان پاسداران انقلاب جولائی میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا

عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلے پر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے: اعظم تارڑ

Web Desk

18 August 2026

وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج سے متعلق عدالتی حکم پر حکومتِ پاکستان کا ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور اس پر نظرثانی و وضاحت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکم نامے کے بعض نکات اور امور میں ابہام موجود ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔

وزیرِ قانون نے کہا کہ ملک کی جیلوں میں ہزاروں ایسے قیدی موجود ہیں جو مختلف صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، لہٰذا یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سپریم کورٹ کا یہ حکم تمام قیدیوں کے لیے لاگو ہوگا یا یہ محض بانی پی ٹی آئی کے کیس تک محدود رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سزایافتہ قیدیوں کو سرکاری ہسپتالوں میں قانون کے مطابق علاج کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور موجودہ عدالتی فیصلے سے پیدا ہونے والے ابہام کو محض قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہی حل کیا جائے گا۔