LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران برسوں سے مجھے نشانہ بنانا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی امیدوار ربیکا گرینسپان کی ملاقات امریکا، ایران کشیدگی کم کرانے کے لیے قطری ثالث دوبارہ متحرک قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مذاکرات جاری رکھنے پر زور یوکرین کے ایک رات میں روس پر 376 ڈرون حملے، آئل ریفائنری اور بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا قومی ہاکی ٹیم کے غیر ملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے، ذمہ داریاں سنبھال لیں ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان، جنگ بندی ختم ہونے کا دعویٰ آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ؛ حکومت نے وفاق سے رینجرز اور ایف سی اہلکار مانگ لیے ’جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘، نیتن یاہو کی ایران کو سخت وارننگ عوامی مسائل نظرانداز، حافظ نعیم الرحمان کا ملک گیر احتجاج کا اعلان ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان، جنگ بندی ختم ہونے کا دعویٰ غیر ملکی ملازمین کے لیے استعمال ہونے والے ویزا سسٹم میں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی بے نقاب نجکاری کمیشن بورڈ کا اہم فیصلہ: اسلام آباد ایئرپورٹ نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزری معاہدے کی منظوری اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کی کڑی تنقید؛ “ہزاروں کا قتل کرنے والے حقِ حکمرانی کھو چکے یوکرینی حملوں سے ایک ہفتے میں 38 روسی شہری ہلاک ہوئے: ماریہ زخارووا

افغانستان کے ساتھ سرحد صرف انسانی امدادی کارروائی کے لیے کھولی: دفتر خارجہ

Web Desk

5 December 2025

ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر انداربی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھیں، میرے پاس اس حوالے سے کوئی نئی معلومات نہیں ہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ترکیہ صدر کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے، پاکستان ترکیہ کے ثالثی وفد کو خوش آمدید کہے گا اور پاکستان مذاکرات کیلئے بھی تیار ہے، ترکیہ وفد کے نہ آنے کی وجہ شیڈولنگ یا پھر طالبان کی طرف سے تعاون کی عدم دستیابی ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان کے ساتھ سرحدیں موجودہ صورتحال کی وجہ سے بند کی ہیں اور افغانستان نے اب اپنی جانب سرحدیں بند کی ہیں، اس حوالے سے اب وہ ہی جواب دے سکتے ہیں، ہم نے فی الوقت سرحدیں امدادی کارروائی کیلئے ہی کھولی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کرغزستان کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا، کرغز صدر اور وزیراعظم نے وفد کی سطح پر ملاقاتیں کی، دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق ہوا، دونوں ممالک تجارتی حجم سال 28-2027 تک 200 ملین تک پہچانے پر اتفاق کیا، کرغز صدر کے دورے پر 15 ایم او یوز پر دستخط ہوئے، کرغز صدر نے بزنس فورم سے خطاب کیا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے سرحد کی بندش ہم نے اپنی حفاظت کے لیے کی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے شہری دہشت گردی کا نشانہ بنیں، بارڈر اسی لیے بند ہے اور سرحد اس وقت تک بند رہے گی جب تک افغانستان کی جانب سے پختہ یقین دہانی نہ مل جائے، ہمیں یقین دہائی کرائی جائے کہ دہشت گرد اور پرتشدد عناصر پاکستان میں داخل نہیں ہوں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف ٹی ٹی پی نہیں، افغان شہری بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں، سرحد کی بندش کے تناظر کو اسی حقیقت میں سمجھا جائے، تجارتی گزر گاہیں اور بارڈر کراسنگ بدستور بند ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے سرحد صرف انسانی امداد کے لیے کھولی تھی، صرف یو این کی امدادی اشیا کو استثنیٰ دیا ہے، پاکستان کا افغانستان کے عوام سے کسی قسم کا اختلاف نہیں، وہ ہمارے بھائی بہن ہیں، بارڈر بندش کے سکیورٹی اسباب ہیں، افغان عوام کے لیے امدادی راہداری میں پاکستان ہمیشہ مثبت رہا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ امدادی ترسیل کا آغاز مرحلہ وار ہوگا، تینوں کیٹیگریز کے شیڈول کی تاریخیں بعد میں فراہم کی جائیں گی، متعلقہ شیڈول وزارت کے ریکارڈ سے چیک کر کے فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاستیں اپنے دو طرفہ تعلقات بڑھانے میں خودمختار ہیں، وزارت تجارت اور دفتر خارجہ کے ساتھ مشاورت مکمل ہوگئی ہے، تمام رسمی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بارڈر پالیسی کا تعلق افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی تعاون سے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کل بابری مسجد کا 33واں یوم شہادت ہے، یہ واقعہ آج بھی تشویش اور دکھ کا باعث ہے، بابری مسجد کا انہدام عدم برداشت، مذہبی امتیاز کے خلاف کھڑا ہونے والوں کے لیے تکلیف دہ ہے