LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ترقی پذیر ممالک کے جی 24 گروپ کا چیئرمین بن گیا، وزیراعظم کا اظہارِ مسرت ایرانی حملوں سے24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہ ہوئیں: امریکی اخبار ایل پی جی ایسوسی ایشنز کا 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کراچی پورٹ پر کھاد اور گندم سے لدے 2 بحری جہازوں کی آمد مہنگائی کے خلاف احتجاج، فرانس، اٹلی اور جرمنی میں بڑے مظاہرے گلگت بلتستان میں آج یومِ آزادی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے امریکا کا لہجہ تبدیل، ایران کی 7 شرائط ماننے پر آمادہ ہوگیا: محسن رضائی ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی کرنا باقی ہے: ٹرمپ غزہ کی تباہی عالمی نظام کے اخلاقی دعوؤں کا امتحان ہے: حافظ نعیم الرحمان اسرائیلی پارلیمنٹ میں سابق یہودی پولیس افسر اسلامی جماعت راعم کا رکن منتخب اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کے مطالبات زور پکڑنے لگے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باوجود امارات کی کرپٹو معیشت میں 32 فیصد اضافہ واشنگٹن کے لہجے میں مکمل تبدیلی واضح ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے: محسن رضائی ایرانی و قطری حکام کے دوحہ میں مذاکرات، خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر گفتگو روس، یوکرین کے انسانی حقوق کے نمائندوں کے درمیان پُراعتماد رابطے قائم ہیں: کریملن

سائنس دانوں نے پہلی بار اے آئی سے بنا وائرس انسان میں داخل کر دیا

Web Desk

1 November 2026

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے اے آئی سٹارٹ اپ ‘ریڈیکل نیومیرکس’ نے طبی تاریخ میں پہلی بار ایک انسانی مریض کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ‘بیکٹیریوفیج’ وائرسز کا مرکب دے کر تجرباتی علاج کیا ہے۔ کمپنی کے اے آئی ماڈل ‘اومنی ون’ (OmniOne) نے وائرس کے جینیاتی حصوں کو ازسرِنو اس طرح ڈیزائن کیا کہ وہ انسانی خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر اینٹی بائیوٹکس سے نہ مرنے والے مخصوص بیکٹیریا کی شناخت کر کے انہیں ختم کر سکیں۔ تجربہ گاہ میں مریض کے نمونوں پر کام کرنے کے بعد یہ دوا خصوصی ایمرجنسی پروگرام کے تحت دی گئی، تاہم کمپنی نے مریض کی تشخیص، علاج کے نتائج اور انفیکشن ختم ہونے کی فی الحال باضابطہ تصدیق نہیں کی اور نہ ہی سائنسی مقالے کی توثیق ہوئی ہے۔ ماہرین نے اس سائنسی پیش رفت کو جہاں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے خلاف بڑی کامیابی قرار دیا ہے، وہیں اسٹینفورڈ جیسے اداروں نے اے آئی کی مدد سے نئے وائرسز ڈیزائن کرنے کے نتیجے میں ابھرنے والے حیاتیاتی تحفظ (Biosafety) کے خطرات پر سخت قواعد و ضوابط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔