LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان حکومت سازی کے معاملات طے پا گئے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ایرانی وفد سے اہم ملاقات، باضابطہ مذاکرات سے قبل مشاورت اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ہمارے حق میں ہیں: ایرانی صدر ایران امریکہ مذاکرات آج: وزیراعظم، فیلڈ مارشل کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات قومی اسمبلی: 29 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 40 کھرب 48 ارب کے 89 مطالبات زر منظور پاکستان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرے گا: دفتر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کا عمل آج باضابطہ طور پر شروع ہوگا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو کی آج 73 ویں سالگرہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے میناب کے مظلوم بچوں اور شہدا کو اپنے طرزِ عمل کا گواہ سمجھتے ہیں، باقر قالیباف اسحاق ڈار مصر پہنچ گئے، علاقائی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے امریکا ایران مذاکرات کل شروع ہونے کا امکان، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ

اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو کئی برس قبل ہی ہیک کر لیا تھا، فنانشل ٹائمز

Web Desk

3 March 2026

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو کئی برس قبل ہی ہیک کر لیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے طویل عرصے پر محیط خفیہ انٹیلی جنس مہم چلائی، جس کے دوران تہران کے ٹریفک کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی رہی اور ان کیمروں سے حاصل ہونے والی تصاویر کو خفیہ طور پر تل ابیب اور جنوبی اسرائیل میں موجود سرورز تک منتقل کیا جاتا رہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کیمروں کے مخصوص زاویوں کی مدد سے سکیورٹی اہلکاروں کی روزمرہ سرگرمیوں، گاڑیوں کی پارکنگ اور کمپاؤنڈ کے اندرونی معمولات پر نظر رکھی گئی۔ اسرائیلی انٹیلی جنس نے جدید الگورتھمز اور سوشل نیٹ ورک اینالیسس کے ذریعے سکیورٹی گارڈز اور دیگر متعلقہ افراد کی رہائش، ڈیوٹی اوقات اور نقل و حرکت کا مکمل پیٹرن تیار کیا تاکہ کسی بھی وقت ان کی موجودگی کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

یہ کارروائی صرف کیمروں تک محدود نہیں رہی بلکہ موبائل فون ٹاورز میں خلل ڈالنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے تاکہ حفاظتی عملے کو بروقت خبردار ہونے سے روکا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق اس پورے نیٹ ورک میں اسرائیل کی سگنلز انٹیلی جنس یونٹ 8200، موساد کے انسانی ذرائع اور فوجی انٹیلی جنس کی روزانہ رپورٹس شامل تھیں، جنہوں نے اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے اہداف کی نشاندہی کی۔

ماہرین کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نظام میں ٹارگٹنگ انٹیلی جنس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور سیاسی منظوری کے بعد مطلوبہ ہدف تک رسائی کے لیے مکمل معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ گزشتہ برس ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے سائبر حملوں، ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو متاثر کیا اور متعدد سائنس دانوں اور فوجی افسران کو نشانہ بنایا۔

مزید کہا گیا ہے کہ اتنے بڑے رہنما کو نشانہ بنانا صرف تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ایک اہم سیاسی فیصلہ بھی تھا۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور اسرائیلی حکام کے مطابق جب یہ طے ہوا کہ خامنہ ای اپنے دفتر میں اعلیٰ قیادت کے ساتھ موجود ہوں گے تو اسے ایک موزوں موقع سمجھا گیا۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیوں کی مکمل تفصیلات شاید کبھی منظرِ عام پر نہ آئیں کیونکہ ان میں استعمال ہونے والے ذرائع اور طریقہ کار کو خفیہ رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔