LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم سے ملاقات، شہباز شریف کا خلیج میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کویت نے آئل ٹینکر پر حملے کے خلاف ایرانی سفیر کو طلب کرلیا نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ کی تارکینِ وطن کے لیے جعل سازوں کے حوالے سے الرٹ جاری بحری ناکہ بندی کے دوران 8 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، ایک ناکارہ بنا دیا: سینٹ کام قطر کا حملوں سے نقصانات کے ازالے کیلئے ایران سے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ ایران کا خطے میں امریکی اڈوں پر تابڑ توڑ حملوں، ریڈار سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ امریکی صدر ٹرمپ نے نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی برازیل اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ : نیا محاذ کھل گیا نئے برطانوی وزیراعظم نے بھی امریکا کو ایران کیخلاف حملوں کیلئے اپنے اڈے استعمال کرنےکی اجازت دیدی بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں کا طاقت سے جواب دیا جائے گا: ترکی المالکی وزیر خارجہ اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے لیے فلپائن روانہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا متحدہ عرب امارات کی بحرین، کویت اور اردن پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت سعودی کابینہ کا خطے میں فوجی کشیدگی فوری ختم کرنے کا مطالبہ مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج، راہول اور پریانکا گاندھی گرفتار

سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل سننے کا اختیار نہیں: وفاقی آئینی عدالت

Web Desk

5 March 2026

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا اور قانونی جنگ کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق زمین کے معاوضے کا تنازع عوامی اہمیت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت حاصل غیر معمولی اختیار صرف عوامی مفاد کے مقدمات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، انفرادی شکایات کے لیے نہیں۔چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں مزید لکھا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت نظرثانی کا حق محدود ہے اور سپریم کورٹ سے نظرثانی مسترد ہونے کے بعد معاملہ ختم تصور کیا جاتا ہے۔فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے 2022 میں دو رکنی بینچ نے تبدیل کر دیا۔یہ مقدمہ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق تھا۔