LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا

سوشل میڈیا کمائی پر ایف بی آر کا شکنجہ: یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کے لیے نئی ٹیکس پالیسی تیار

Web Desk

2 April 2026

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ملک میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی خطیر آمدن کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق، سوشل میڈیا ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے ایک ہفتے کے اندر تجاویز طلب کی گئی ہیں تاکہ ایک جامع اور منصفانہ ٹیکس پالیسی وضع کی جا سکے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت، سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کو ‘کاروباری سرگرمی’ تصور کرنے کے لیے مخصوص معیار (Benchmarks) مقرر کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی صارف ایک مالی سال میں 50 ہزار ویوز یا ایک سہ ماہی (Quarter) میں 12 ہزار 500 ویوز حاصل کرتا ہے، تو اسے کاروباری فرد تصور کرتے ہوئے انکم ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔ سب سے اہم تجویز YouTube کے حوالے سے ہے، جہاں ایف بی آر کا تخمینہ ہے کہ ہر 1000 ویوز پر 195 روپے کی اوسط آمدن ہوتی ہے، اور اسی رقم کو بنیاد بنا کر ٹیکس کا تعین کیا جائے گا۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دستاویزی معیشت کو فروغ دینا اور ان شعبوں سے ریونیو حاصل کرنا ہے جو اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر تھے۔ ماہرین کی تجاویز موصول ہونے کے بعد حتمی پالیسی کو قانونی شکل دی جائے گی۔