LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات

مالی سال 2026-27 کا آغاز، بجٹ میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد شروع

Web Desk

1 July 2026

نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز کے ساتھ ہی وفاقی بجٹ میں منظور کیے گئے ٹیکس اور ٹیرف سے متعلق اہم فیصلوں پر ملک بھر میں عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے درآمدی اشیا پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں نمایاں کمی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن (ایس آر او) جاری کر دیا ہے۔

ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، درآمدی سامان پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح کو 50 فیصد سے یکمشت کم کر کے اب صرف 20 فیصد مقرر کر دیا گیا ہے۔ تاہم، 5 فیصد، 2 فیصد اور 1 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی والی مخصوص ٹیرف لائنز کو اس کمی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے اور ان پر پرانی شرح ہی لاگو رہے گی۔

ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ برآمدات اور ملکی صنعت کے تحفظ سے متعلق خام مال اور دیگر ضروری اشیا پر عائد موجودہ کم شرحِ ریگولیٹری ڈیوٹی کو برقرار رکھا گیا ہے، تاکہ ملکی صنعتی شعبے اور برآمدی سرگرمیوں پر کوئی بھی منفی اثر مرتب نہ ہو۔  بورڈ کے مطابق یہ بڑا اقدام ‘قومی ٹیرف پالیسی 2025-30’ کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ وفاق کا ارادہ ہے کہ سال 2030 تک ملک سے ریگولیٹری ڈیوٹی کو مرحلہ وار طریقے سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے اور پاکستان کے ٹیرف نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق سادہ اور شفاف بنایا جائے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ ‘ٹیرف ریشنلائزیشن پلان’ کے دوسرے سال میں بھی ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرحوں میں ضرورت کے مطابق مزید ردوبدل کیا جائے گا۔ معاشی ماہرین اور حکام کو توقع ہے کہ اس اہم فیصلے سے ملک میں درآمدی رکاوٹیں دور ہوں گی، کاروباری مسابقت میں اضافہ ہوگا اور ملکی تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کو تیزی سے فروغ ملے گا۔